پاکستان اور افغان طالبان تعلقات کی کشیدگی
پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات پچھلے چار سالوں میں سب سے نچلے سطح پر پہنچ گئے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کی سرحدی صورتحال میں کشیدگی بڑھ گئی ہے
ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ افغان طالبان پاکستان کی تشویشات اور مطالبات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور اگر وہ واقعی فائر بندی یا مذاکرات چاہتے ہیں تو انہیں قابل تصدیق اقدامات کرنے ہوں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی کو نشانہ بنانے کا خواہاں نہیں بلکہ ہماری اولین ترجیح ملک کی سلامتی ہے سرحد پر پاکستان واحد ملک ہے جو اپنی جانب سے مکمل نگرانی کرتا ہے
جبکہ افغان سرحدی علاقے دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے سرحدی کارروائیوں میں انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے
اور شہری آبادی کو کسی بھی آپریشن میں نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ کارروائیاں صرف دہشت گرد کیمپوں اور فوجی اہداف تک محدود ہیں اہلکار نے بتایا کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر تحریک طالبان پاکستان کے کیمپوں کو نشانہ بنایا تاہم اس کے جواب میں افغان طالبان نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے جو دہشت گردوں کی نقل و حمل کو روکنے کے لیے قائم کی گئی تھیں
افغان طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کا تعلق
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ وسائل اور تکنیکی سامان فراہم کرنے والے علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ کارروائیاں ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں اہلکار نے یاد دلایا کہ گزشتہ اکتوبر کے بعد مذاکرات کی کوششوں میں تین مختلف ممالک نے کردار ادا کیا اور پاکستان کی فراہم کردہ شواہد کو قبول کرتے ہوئے افغان طالبان کو مطمئن کیا کہ پاکستان کی تشویشات جائز ہیں تاہم طالبان کی جانب سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا اہلکار نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی اور جرائم کے درمیان واضح تعلق موجود ہے اور افغان طالبان کئی دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دے رہے ہیں اور انہیں اپنے قابو میں رکھنے والے کے طور پر کام کر رہے ہیں
پاکستان کی کارروائیاں نہ صرف سرحدی دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مکمل ملک گیر اتحاد اور واضح قومی حکمت عملی کے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں اور اسی مقصد کے تحت نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تاکہ دہشت گردی کے ساتھ معاشرتی جرائم اور انتہا پسندی کو بھی کنٹرول کیا
خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات
جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا افغانستان میں کسی قسم کا مداخلت پسندانہ ایجنڈا نہیں ہے اور افغان سیاسی صورتحال افغان عوام کا معاملہ ہے ہمارا موقف واضح ہے کہ افغان زمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے اہلکار نے کہا کہ افغانستان کے خلاف کارروائیاں ان کے مقاصد کے حصول تک جاری رہیں
گی اور طالبان جانتے ہیں کہ جنگ بند کرنے کے لیے ان سے کیا مطالبات کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے افغانستان میں استعمال ہونے والے 36 سرحدی پوسٹس تباہ کر دی ہیں جو پاکستان پر حملے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں
خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سنجیدہ ہے اور ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بگرام بیس کو نشانہ بنانے کا مقصد پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار اور گولہ بارود تباہ کرنا تھا جبکہ تیراہ میں مکمل آپریشن کی ضرورت نہیں کیونکہ سکیورٹی فورسز نے وہاں موجود دہشت گرد بیسز کو محدود کیا ہے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب طالبان دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت چھوڑ دیں

