Thu. Mar 19th, 2026

پاکستان اور ایران سرحدی سفر گوادر میں راہداری نظام بند

گوادر میں ایران جانے کے لیے راہداری پاسز کی جاری کاری معطل کر دی گئی ہے مقامی رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے جلد بحالی کی اپیل کی ہے ایران کے سرحدی سفر کے لیے راہداری نظام بند ہونے سے سرحدی علاقوں کے لوگ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں خاندانی اور کاروباری تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے گوادر انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران جانے کے نئے راہداری پاسز جاری نہیں کیے جائیں گے سرحدی رہائشی اپنی روزمرہ زندگی میں آسانی کے لیے بحالی کے منتظر ہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے راہداری پاسز کی معطلی روزمرہ سفر اور خاندانی روابط میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے مقامی لوگ حکومت سے اپیل کر رہے ہیں راہداری نظام کی معطلی کے بعد سرحدی علاقوں میں لوگوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد نظام کو دوبارہ فعال کرے
گوادر میں ایران جانے کے لیے راہداری پاسز کی جاری کاری معطل کر دی گئی ہے مقامی رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے جلد بحالی کی اپیل کی ہے ایران کے سرحدی سفر کے لیے راہداری نظام بند ہونے سے سرحدی علاقوں کے لوگ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں خاندانی اور کاروباری تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے گوادر انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران جانے کے نئے راہداری پاسز جاری نہیں کیے جائیں گے سرحدی رہائشی اپنی روزمرہ زندگی میں آسانی کے لیے بحالی کے منتظر ہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے راہداری پاسز کی معطلی روزمرہ سفر اور خاندانی روابط میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے مقامی لوگ حکومت سے اپیل کر رہے ہیں راہداری نظام کی معطلی کے بعد سرحدی علاقوں میں لوگوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد نظام کو دوبارہ فعال کرے

 گوادر میں ایران کے لیے راہداری پاسز کی جاری کاری معطل

گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے ایران جانے والے شہریوں کے لیے راہداری دستاویزات یعنی سرحدی پاسز کی جاری کاری معطل کر دی ہے اس حوالے سے گوادر کے اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے

کہ ایران کے لیے نئے راہداری پاسز کی جاری کاری آئندہ احکامات تک بند رہے گی اس نظام کے تحت سرحدی علاقوں کے رہائشی بغیر ویزا یا پاسپورٹ کے پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کر سکتے تھے یہ سہولت صرف سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کے لیے مخصوص تھی

مقامی شہریوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ راہداری نظام کی معطلی سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوں گے اور سرحدی سفر میں مشکلات پیدا ہوں گی انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام طویل عرصے سے لوگوں کے لیے آسان اور اہم سفری سہولت کے طور پر کام کر رہا تھا جس کے ذریعے روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور خاندانی تعلقات میں آسانی رہتی تھی

سرحدی علاقوں کے رہائشیوں میں تشویش

سرحدی علاقوں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت، تعلیم اور دیگر ضروری کاموں کے لیے راہداری پاسز کا استعمال کرتے تھے اس نظام کے معطل ہونے سے نہ صرف معاشرتی بلکہ اقتصادی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے خاص طور پر گوادر کے رہائشی جو ایران کے سرحدی علاقوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں ان کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے

مقامی رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ راہداری نظام کو جلد از جلد دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ نہ آئے اور روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو انہوں نے کہا کہ راہداری پاسز کی معطلی سے بچوں کی تعلیم، خاندانوں کی ملاقات اور سرحدی علاقوں کی روزمرہ ضروریات کی تکمیل میں مشکلات پیش آئیں گی

سرحدی پاسز کے بغیر سفر کرنے والے لوگ ایران میں رہائش پذیر اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے دیگر سرکاری طریقہ کار استعمال نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے خاندانی روابط کمزور ہو سکتے ہیں اور سرحدی علاقوں میں روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اس کے علاوہ کاروباری افراد جن کی سرگرمیاں دونوں ممالک میں سرحدی علاقوں پر مبنی ہیں وہ بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے

سیکورٹی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے پیش نظر فیصلے کی وجہ

ذرائع کے مطابق راہداری پاسز کی معطلی کا مقصد سرحدی سیکورٹی کو بہتر بنانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا بتایا گیا ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے روزمرہ زندگی میں آسانی فراہم کرتا رہا ہے اور اس کے بغیر سماجی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی

ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ راہداری پاسز کے جاری ہونے کی صورت میں کوئی نیا پاس جاری نہیں کیا جائے گا اور موجودہ پاسز کی میعاد ختم ہونے کے بعد کوئی نیا سفر راہداری کے ذریعے ممکن نہیں ہوگا اس فیصلے سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کو سرحد عبور کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے

مقامی شہری اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ جلد از جلد راہداری نظام کی بحالی کے لیے اقدامات کرے تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات برقرار رہیں اور روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو

متعلقہ پوسٹس