گوادر میں ایران کے لیے راہداری پاسز کی جاری کاری معطل
گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے ایران جانے والے شہریوں کے لیے راہداری دستاویزات یعنی سرحدی پاسز کی جاری کاری معطل کر دی ہے اس حوالے سے گوادر کے اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے
کہ ایران کے لیے نئے راہداری پاسز کی جاری کاری آئندہ احکامات تک بند رہے گی اس نظام کے تحت سرحدی علاقوں کے رہائشی بغیر ویزا یا پاسپورٹ کے پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کر سکتے تھے یہ سہولت صرف سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کے لیے مخصوص تھی
مقامی شہریوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ راہداری نظام کی معطلی سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوں گے اور سرحدی سفر میں مشکلات پیدا ہوں گی انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام طویل عرصے سے لوگوں کے لیے آسان اور اہم سفری سہولت کے طور پر کام کر رہا تھا جس کے ذریعے روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور خاندانی تعلقات میں آسانی رہتی تھی
سرحدی علاقوں کے رہائشیوں میں تشویش
سرحدی علاقوں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت، تعلیم اور دیگر ضروری کاموں کے لیے راہداری پاسز کا استعمال کرتے تھے اس نظام کے معطل ہونے سے نہ صرف معاشرتی بلکہ اقتصادی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے خاص طور پر گوادر کے رہائشی جو ایران کے سرحدی علاقوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں ان کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے
مقامی رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ راہداری نظام کو جلد از جلد دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ نہ آئے اور روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو انہوں نے کہا کہ راہداری پاسز کی معطلی سے بچوں کی تعلیم، خاندانوں کی ملاقات اور سرحدی علاقوں کی روزمرہ ضروریات کی تکمیل میں مشکلات پیش آئیں گی
سرحدی پاسز کے بغیر سفر کرنے والے لوگ ایران میں رہائش پذیر اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے دیگر سرکاری طریقہ کار استعمال نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے خاندانی روابط کمزور ہو سکتے ہیں اور سرحدی علاقوں میں روزمرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اس کے علاوہ کاروباری افراد جن کی سرگرمیاں دونوں ممالک میں سرحدی علاقوں پر مبنی ہیں وہ بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے
سیکورٹی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے پیش نظر فیصلے کی وجہ
ذرائع کے مطابق راہداری پاسز کی معطلی کا مقصد سرحدی سیکورٹی کو بہتر بنانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا بتایا گیا ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے روزمرہ زندگی میں آسانی فراہم کرتا رہا ہے اور اس کے بغیر سماجی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی
ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ راہداری پاسز کے جاری ہونے کی صورت میں کوئی نیا پاس جاری نہیں کیا جائے گا اور موجودہ پاسز کی میعاد ختم ہونے کے بعد کوئی نیا سفر راہداری کے ذریعے ممکن نہیں ہوگا اس فیصلے سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کو سرحد عبور کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے
مقامی شہری اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ جلد از جلد راہداری نظام کی بحالی کے لیے اقدامات کرے تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات برقرار رہیں اور روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو

