Thu. Apr 2nd, 2026

پاکستان اور سات مسلم ممالک کی اسرائیل کے سزائے موت کے قانون کی شدید مذمت

پاکستان اور سات مسلم ممالک کی اسرائیل کے سزائے موت کے قانون کی شدید مذمت فلسطینی قیدیوں کے حقوق پر اسرائیل کے فوجی عدالتوں میں سزائے موت کا خطرہ مسلم ممالک کی عالمی برادری سے اپیل: فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کا تحفظ اسرائیل کی امتیازی پالیسی اور فلسطینی عوام کے حقوق پر اثرات مغربی کنارے میں اسرائیل کے سزائے موت کے قانون اور فلسطینی قیدیوں کی صورتحال
پاکستان اور سات مسلم ممالک کی اسرائیل کے سزائے موت کے قانون کی شدید مذمت فلسطینی قیدیوں کے حقوق پر اسرائیل کے فوجی عدالتوں میں سزائے موت کا خطرہ مسلم ممالک کی عالمی برادری سے اپیل: فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کا تحفظ اسرائیل کی امتیازی پالیسی اور فلسطینی عوام کے حقوق پر اثرات مغربی کنارے میں اسرائیل کے سزائے موت کے قانون اور فلسطینی قیدیوں کی صورتحال

پاکستان اور سات مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کا سزائے موت کا قانون

پاکستان سمیت سات مسلم ممالک نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے سزائے موت کے قانون کی شدید مذمت کی ہے پاکستان، مصر اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی سعودی عرب اور قطر نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے

اس قانون کو فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی امتیازی پالیسی قرار دیا ہے اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ کے قانون کی منظوری انتہائی خطرناک اقدام ہے جو فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے

اس اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت فوجی عدالتوں میں مہلک حملوں کے مرتکب فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو لازمی قرار دیا گیا ہے اس قانون کے تحت سزائے موت کی سماعت نوے دن کے اندر مکمل کرنی ہوگی

اور معافی یا تخفیف کی کوئی درخواست قبول نہیں ہوگی اس کے علاوہ سزائے موت کے فیصلے کے لیے پروسیکیوشن کی درخواست ضروری نہیں ہوگی اور فیصلہ اکثریت سے ہوگا

قانون کی تفصیلات اور فوجی عدالتوں میں اطلاق

فوجی عدالتیں جو فلسطینیوں پر لاگو ہوتی ہیں انہیں بھی سزائے موت دینے کا اختیار حاصل ہوگا اور دفاعی وزیر کو عدالتی پینل کے سامنے اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہوگا اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ قانون فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو بڑھاوا دیتا ہے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے مسلم ممالک نے فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جاری زیادتیوں، اذیت رسانی، غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق کی پامالی پر گہری تشویش ہے

وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی امتیازی پالیسی فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و جبر اور جارحیت کو فروغ دے رہی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری فوری طور پر مداخلت کرے اور اس بات کو یقینی بنائے

کہ اسرائیل کے اقدامات کی ذمہ داری عائد کی جائے اور علاقائی استحکام کو نقصان نہ پہنچے فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل پامالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے پیش نظر مسلم ممالک نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر سزائے موت کے قانون کو واپس لے اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنائے

فلسطینی قیدیوں کے حالات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی

اعلامیے میں فلسطینی قیدیوں کے حالات زندگی، بنیادی حقوق کی فراہمی اور اذیت و تشدد کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات فلسطینی عوام کے لیے خطرناک ہیں اور یہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں مسلم ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے جارحانہ اور امتیازی قوانین فلسطینی عوام کے حقوق اور موجودگی کو نظر انداز کرتے ہیں اور یہ عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں

فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے سزائے موت کے قانون کے نفاذ کو مسلم ممالک نے انسانیت کے خلاف اقدام قرار دیا ہے اور فلسطینی قیدیوں کی حفاظت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ اور امتیازی پالیسی فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں علاقائی امن و سلامتی خطرے میں ہے مسلم ممالک نے فلسطینی عوام کے لیے انصاف، انسانی حقوق اور سزائے موت کے قانون کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے

متعلقہ پوسٹس