کیپی کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے انتخابی دھاندلی
خیبر پختونخواہ کی کابینہ نے حالیہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے ہیں جن میں صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے منصوبے شامل ہیں وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جو فروری ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرے گی اس کمیٹی کا مقصد صوبائی حکومت کے ملازمین سے پوچھ گچھ کرنا ہے جنہوں نے انتخابات میں خدمات انجام دی ہیں تاکہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ دہشت گردوں کے حوالگی مراکز سے متعلق معلومات کی کمی ہے جس کی وجہ سے سول طاقت کے قانون کی واپسی میں تاخیر ہو رہی ہے انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام معلومات فراہم کرے تاکہ صوبے میں سیکورٹی خطرات سے بچا جا سکے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں لیکن اس کے باوجود مکمل امن قائم نہیں ہو سکا
کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں ۲۲ بڑے آپریشن اور ۱۴۰۰۰ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی جا چکی ہیں لیکن دہشت گردی مکمل ختم نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان پر حملہ پی ٹی آئی کے خلاف سازش تھا اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے
وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریہ بی بی کی ایڈیالہ جیل میں تنہائی میں قید کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ سردیوں میں مناسب سہولیات نہ دینا ظلم کے مترادف ہے
پی ٹی آئی رہنماؤں کی جیل میں قید اور انسانی حقوق
انہوں نے صوبائی حکومت کے مالی مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ وفاق نے مقامی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لیے وعدہ شدہ فنڈز فراہم نہیں کیے ہیں صوبے کی حکومت نے اپنی جانب سے اب تک سات ارب روپے خرچ کیے ہیں جبکہ ممکنہ نقصانات کی شرح ایک سو ارب روپے تک جا سکتی ہے
اجلاس میں تعلیمی اصلاحات، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے، عدالتی نظام کی بہتری، جیلوں میں اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی ہے صوبے کی جیلوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کو دور کرنے اور سیکیورٹی کے جدید انتظامات کے لیے ۲۶۸۴ ملین روپے کی منظوری دی گئی ہے
کابینہ نے تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نصاب کو شامل کرنے اور سکالرشپ فنڈز کے قیام کی بھی منظوری دی ہے تاکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں اسی طرح مختلف ترقیاتی منصوبوں جیسے سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹریز کی تعمیر، کھیلوں میں کامیاب کھلاڑیوں کے لیے نقد انعامات، سیلاب متاثرین کی بحالی اور معدنی وسائل کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں
اجلاس میں پشاور اور نیو یارک کو جڑواں شہر قرار دینے کا مسودہ بھی منظور کیا گیا ہے جس سے دونوں شہروں کے درمیان ثقافتی، اقتصادی اور تعلیمی تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے اس طرح کے اقدامات سے صوبے میں ترقی، امن اور عوامی فلاح کے نئے راستے کھلیں گے

