Fri. Feb 6th, 2026

پاکستان کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ امن بورڈ میں دعوت

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جانیں اس کا عالمی اثر اور اہم تفصیلات امریکی صدر نے غزہ امن بورڈ تشکیل دیا ہے، شہباز شریف کی شمولیت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے امریکی امن بورڈ کی تیاری، پاکستان بھی اس میں شامل ہو کر فلسطین کے مسئلے میں اپنا کردار ادا کرے گا جانیں کیسے پاکستان کی شمولیت غزہ امن بورڈ میں خطے میں امن اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مضبوط بنا سکتی ہے شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں دعوت مل گئی، امریکی منصوبہ اور اہم ممالک کی شمولیت کے بارے میں مکمل معلومات یہاں حاصل کریں
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جانیں اس کا عالمی اثر اور اہم تفصیلات امریکی صدر نے غزہ امن بورڈ تشکیل دیا ہے، شہباز شریف کی شمولیت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے امریکی امن بورڈ کی تیاری، پاکستان بھی اس میں شامل ہو کر فلسطین کے مسئلے میں اپنا کردار ادا کرے گا جانیں کیسے پاکستان کی شمولیت غزہ امن بورڈ میں خطے میں امن اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مضبوط بنا سکتی ہے شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں دعوت مل گئی، امریکی منصوبہ اور اہم ممالک کی شمولیت کے بارے میں مکمل معلومات یہاں حاصل کریں

پاکستان کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ کے امن بورڈ میں دعوت

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ کے لیے قائم ہونے والے امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے یہ دعوت پاکستان کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی میں مثبت قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے بتایا کہ پاکستان بین الاقوامی کوششوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ غزہ میں دیرپا امن اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور فلسطین کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تلاش کیا جا سکے

امریکی صدر نے خود اس بورڈ کا سربراہ بننے کا اعلان کیا ہے اور اس کے ذریعے غزہ میں اقتصادی ترقی اور امن کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس بورڈ میں تقریباً ساٹھ ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا ہے جن میں ترکی مصر ارجنٹینا انڈونیشیا اٹلی مراکش برطانیہ جرمنی کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ دو سال سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد شدید متاثر ہو چکا ہے

بورڈ کا چارٹر اقوام متحدہ کا متبادل پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے حالانکہ اس میں براہ راست غزہ کا ذکر نہیں ہے امریکی صدر نے بورڈ کے لیے اہم شخصیات کو بھی شامل کیا ہے جن میں اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر عالمی بینک کے صدر اجے بانگا اور اپنے سینئر مذاکرات کار جارڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان بھی اس بورڈ میں شامل ہیں اسرائیل نے ترکی کے کردار پر ہمیشہ اعتراض کیا ہے

غزہ کے لیے امن بورڈ امریکی منصوبہ اور اہم ممبران

بورڈ کے ایگزیکٹو ممبران میں اقوام متحدہ کی خصوصی کوآرڈینیٹر برائے مشرق وسطی امن عمل سگرید کاگ اسرائیلی سائپریائی ارب پتی یکر گبی اور متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر شامل ہیں جس نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے غزہ کے لیے قائم ہونے والے فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی کا پہلا اجلاس قاہرہ میں ہوا جس میں جارڈ کوشنر بھی شریک تھے یہ کمیٹی غزہ کی تعمیر نو اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کام کرے گی

فارم فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث اس کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں اور جنگ کے ملبے کو تین سال کے اندر صاف کیا جائے اور بنیادی ڈھانچہ دوبارہ قائم کیا جائے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے یہ فیصلہ کریں گے کہ واشنگٹن کی یہ کوششیں حقیقی امن اور ترقی میں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہیں غزہ میں سیاسی منتقلی اور غیر مسلح کرنے کے عمل پر مذاکرات جاری ہیں اور اس سے خطے میں امن کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں

پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر فلسطین کے موقف کو اجاگر کرے اور امن کے لیے مثبت کردار ادا کرے پاکستان کی شرکت سے نہ صرف علاقائی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی شبیہ بہتر ہوگی عوام کی نظر میں یہ دعوت ایک اعزاز کے طور پر دیکھی جا رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا

متعلقہ پوسٹس