بنوں میں دہشت گرد کمانڈر اور ساتھی ہلاک
بنوں کے ضلع میں انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے دوران ایک اعلیٰ سطح کا دہشت گرد کمانڈر اور اس کا معاون ہلاک ہو گیا اس واقعے کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی نہایت اہم اور حساس تھی مقامی اہلکاروں کے مطابق انسداد دہشت گردی ٹیم ایک گرفتار دہشت گرد کمانڈر کو قتل کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے لے جا رہی تھی کہ اس کے ساتھیوں نے اس کی رہائی کے لیے اچانک حملہ کر دیا حملے کے دوران شدید فائرنگ ہوئی جس میں گرفتار کمانڈر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا شکار ہو گیا اور ہلاک ہو گیا
انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کا مقابلہ کیا اور محفوظ طریقے سے صورتحال پر قابو پایا اس دوران ٹیم کے زره پوش گاڑی پر بھی فائرنگ ہوئی مگر اہلکار بحفاظت رہے مقامی حکام کے مطابق ہلاک شدہ کمانڈر نے گرفتار ہونے سے پہلے کئی بڑے حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جن میں اسسٹنٹ کمشنر شہ والی خان اور سابق ایس ایچ او عابد وزیر کے قتل کے واقعات شامل تھے علاوہ ازیں مارواٹ قومی تحریک کے تین رہنماؤں کے قتل میں بھی اس کا نام سامنے آیا
انسداد دہشت گردی ٹیم پر حملہ اور شدید فائرنگ
سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک اور شدت پسند بھی ہلاک ہوا جو شمالی وزیرستان کے کابل خیل شیوہ کا رہائشی تھا اور متعدد پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے مقدمات میں مطلوب تھا اس کے قبضے سے کلاشنکوف رائفل، دستی بم اور ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک کارڈ بھی برآمد ہوا اس کے علاوہ شناختی کارڈ اور موبائل فون بھی حاصل ہوئے
واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا اور مختلف مقامات سے خون کے دھبے ملے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زخمی شدت پسندوں کو ان کے ساتھیوں نے لے جانے کی کوشش کی ہے اب بھی باقی ماندہ شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے تلاش اور کارروائی جاری ہے پولیس کے انسپکٹر جنرل اور سی ٹی ڈی کے اعلیٰ افسران نے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کی تعریف کی اور یقین دہانی کرائی کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا توقف جاری رہیں گی تاکہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں پائیدار امن قائم ہو
علاقے میں سرچ آپریشن اور باقی ماندہ شدت پسندوں کی تلاش
انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں تاکہ دہشت گرد عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کسی کے مفاد میں کام نہیں کرتے بلکہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے یہاں تک کہ اپنے ہی ساتھیوں پر بھی فائرنگ کر دیتے ہیں صوبے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے گزشتہ روز بھی بنوں میں ایک کارروائی کے دوران دو پاکستانی سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے اس میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شامل تھے
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے ۸۰ فیصد دہشت گردانہ واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں انہوں نے اس کا سبب صوبے میں دہشت گردوں کے لیے سیاسی طور پر سازگار ماحول اور سیاسی اور دہشت گرد عناصر کے درمیان تعلقات کو قرار دیا اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی مستعدی اور عوام کا تعاون دہشت گرد عناصر کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے
یہ کارروائی نہ صرف سیکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ عوام کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ دہشت گرد کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ صرف انتشار اور نقصان کے لیے سرگرم ہیں اور امن قائم رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں

