تیراہ وادی میں شدید برفباری ریسکیو آپریشن جاری
خیبر پختونخوا کے شیر دل عوام کے لیے ایک اور مشکل دن لے کر آیا کیونکہ تیراہ وادی میں شدید برفباری نے زندگی کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے لوگوں کے لیے یہ وقت بہت سنجیدہ ہے کیونکہ برفباری کے باعث کئی خاندان اپنے گھروں میں محصور ہو گئے تھے اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے فوری امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں
ریسکیو ٹیموں نے دن رات محنت کرتے ہوئے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ریسکیو 1122 کے نمائندے بلال احمد فیضی کے مطابق اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد اور تین سو سے زیادہ گاڑیاں برفباری سے بچا کر محفوظ مقامات تک پہنچا دی گئی ہیں اس دوران ایک سو سے زائد افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی گئی ہے
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے تیراہ وادی کے دشوار گزار راستوں پر سخت سردی اور صفر ڈگری سے بھی کم درجہ حرارت کے باوجود ہمت اور حوصلے سے کام جاری رکھا اہلکاروں کی محنت اور قربانی نے ہزاروں خاندانوں کو مشکل وقت سے نکالنے میں مدد دی ہے اس آپریشن میں خیبر، پشاور، مردان، نوشہرہ اور صوابی کے ریسکیو 1122 کے ایک سو سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں
کچھ دن پہلے خیبر ضلع کی انتظامیہ نے تیراہ وادی سے مزید خاندانوں کی منتقلی کو معطل کر دیا تھا کیونکہ شدید برفباری اور خراب موسم کے باعث سفر خطرناک تھا عوام کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ بارہ تک سفر نہ کریں اور محفوظ رہیں\
ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد اور تین سو گاڑیاں محفوظ مقامات پر منتقل
اسی دوران نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس کے نمائندے نے بھی عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں خاص طور پر مری کی جانب سفر کے لیے احتیاط برتیں مری ایکسپریس وے ابھی بند ہے اور صرف مقامی لوگوں کو محدود اجازت دی جا رہی ہے عوام سے درخواست ہے کہ سفر سے پہلے مقامی حکام اور پولیس کے سوشل میڈیا چینلز پر موجود معلومات کو ضرور دیکھیں تاکہ سفر محفوظ ہو
تیراہ وادی میں ریسکیو آپریشن کے دوران دکھائی دینے والی قربانی اور حوصلہ مندی واقعی قابل تحسین ہے اہلکاروں نے دن رات محنت کی اور لوگوں کی جانیں بچائیں یہ دکھاتا ہے کہ مشکل حالات میں ہم سب کو ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مدد کے لیے فوراً آگے آنا چاہیے
عوام کو چاہیے کہ وہ موسم کی شدت کو سنجیدگی سے لیں اور بغیر ضرورت سفر نہ کریں یہ وقت سب کے لیے چیلنج ہے لیکن ایک دوسرے کی مدد اور حکومتی ہدایات پر عمل کر کے ہم اس مشکل کو آسان بنا سکتے ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے اہل خانہ اور عزیزوں کو محفوظ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ریسکیو ٹیموں سے رابطہ کریں تاکہ کوئی بھی حادثہ یا نقصان نہ ہو
تیراہ وادی کی یہ صورتحال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قدرتی آفات کے وقت احتیاط اور بروقت مدد سب کے لیے ضروری ہے عوام، ریسکیو اہلکار اور انتظامیہ سب مل کر ایک دوسرے کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اس برفانی طوفان کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں

