کرک میں دہشت گردانہ حملے میں تین اہلکار شہی
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پیر کے روز دہشت گردوں کے حملے میں تین اہلکار شہید ہوگئے۔ مقامی پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے ڈرگاہ شہیداں کے علاقے میں وفاقی قسطنطنیہ کے فورٹ پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا۔ ابتدائی حملے کے بعد زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس کو بھی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین اہلکار شہید ہوئے
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور دہشت گردوں نے فورس کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید آلات استعمال کیے مقامی لوگ اور اہلکار اس واقعے سے صدمے میں ہیں اور سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں
خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سالانہ رپورٹ برائے سلامتی کے مطابق پچھلے سال صوبے میں ہلاکتیں بڑھ کر دو ہزار تین سو اکیس ہو گئی ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت چار چالیس فیصد زیادہ ہیں۔ اس میں صوبے میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا اہم حصہ شامل ہے
پچھلے چند مہینوں میں صوبے میں متعدد حملے ہوئے ہیں۔ پچھلے ہفتے باجوڑ کے ایک چیک پوسٹ پر دھماکہ خیز گاڑی کے حملے میں گیارہ سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔ اسی طرح سولگازی علاقے میں ایک چیک پوسٹ پر حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ پشاور کے صدر علاقے میں وفاقیقسطنطنیہ ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی تین اہلکار شہید ہوئے تھے
سکیورٹی حکام کی کارروائیاں اور عوامی تعاون
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد صوبے میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں اور اہلکار دن رات محنت کر کے عوام کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں عوام کو چاہیے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مزید حملوں کو روکا جا سکے
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کی بڑی وجہ صوبے میں سرگرم دہشت گرد گروہ اور غیر قانونی ہتھیاروں کی موجودگی ہے۔ اگرچہ فورسز نے کئی کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے مگر مکمل سکیورٹی کے لیے عوام اور حکام کو مل کر کام کرنا ہوگا
علاقائی انتظامیہ نے شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کو مکمل مالی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے بھی اپنے آپریشنز کو مزید تیز کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے پلانز ناکام بنائے جا سکیں۔ عوام اور مقامی لوگ فورسز کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے ہدایات پر عمل کر رہے ہیں
یہ حملہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن قائم رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں جاری ہیں اور دہشت گردوں کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ عوام کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکام مسلسل کوششیں کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان قائم رہے

