وزیراعظم شہباز شریف کے ایندھن بچت اقدامات
پاکستان نے عالمی تیل بحران کے پیش نظر ایندھن بچت کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز عوام سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں، چار روزہ کام کا ہفتہ، آن لائن تعلیم اور دیگر کفایت شعاری کے اقدامات متعارف کرائے ہیں تاکہ ملک کی توانائی اور معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے
حکومت نے اعلان کیا کہ اگلے دو مہینوں کے لیے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاونس میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ تاہم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بھی دو ماہ کے لیے روکی جائیں گی
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان اپنے تنخواہوں اور الاؤنسز سے دستبردار ہوں گے جبکہ پارلیمنٹ کے اراکین کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی ہوگی۔ اعلیٰ سرکاری ملازمین جو ماہانہ تین لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کماتے ہیں، ان سے دو دن کی تنخواہ عوام کی بھلائی کے لیے مختص ہوگی۔
حکومت نے مزید اعلان کیا کہ سرکاری دفاتر میں غیر ضروری اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی، چار روزہ کام کا ہفتہ نافذ کیا جائے گا، اور 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا، تاہم بینک اور ضروری خدمات سے مستثنیٰ ہیں۔
تعلیمی شعبے میں آن لائن تعلیم اور سکول تعطیلات
تعلیمی شعبے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ تمام ہائر ایجوکیشن ادارے 16 سے 31 مارچ تک آن لائن تعلیم کا آغاز کریں گے اور تمام سکولوں میں دو ہفتے کی تعطیلات ہوں گی۔
سرکاری خریداری، جیسے گاڑیاں، فرنیچر، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر اشیاء، جون 2026 تک ممنوع ہوں گی۔ وزراء، مشیر اور سرکاری اہلکار غیر ضروری غیر ملکی دوروں سے منع ہیں۔ سرکاری عشائیے، افطار پارٹیز اور ہوٹل میں سیمینارز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ مہنگائی اور قیمتوں کا بوجھ عوام پر کم سے کم پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور پاکستان گلف ممالک پر انحصار کرتا ہے، اس لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف بھی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے عوام سے اتحاد اور صبر کی اپیل کی اور کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بحران کے دوران معیشت مستحکم رہے۔

