کراچی اور لاہور کے مخصوص فضائی راستے عارضی طور پر بند
خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کراچی اور لاہور کے بعض فضائی راستوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ ایران اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد کیا گیا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کے فضائی آپریشنز پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز پہلے ہی اپنی پروازیں معطل یا محدود کر چکی ہیں جس سے خطے میں ہوائی سفر متاثر ہوا ہے
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹس ٹو ایئر مین کے مطابق کراچی اور لاہور کے فلائٹ انفارمیشن ریجنز میں منتخب ایئر ٹریفک سروس روٹس کو تین مارچ سے اکتیس مارچ تک روزانہ صبح نو بجے سے سہ پہر تین بجے تک بند رکھا جائے گا اس اقدام کو آپریشنل وجوہات اور حفاظتی تقاضوں کے تحت ضروری قرار دیا گیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے
فضائی ماہرین کے مطابق موجودہ علاقائی حالات میں کئی ممالک اپنی فضائی حدود اور مخصوص روٹس کے حوالے سے اضافی احتیاط برت رہے ہیں پاکستان نے بھی اسی تناظر میں محدود وقت کے لیے مخصوص راستوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس دوران متبادل فضائی راستے استعمال کیے جائیں گے تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک پروازوں کا سلسلہ جاری رہے اور مسافروں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے
پی آئی اے کی سعودی عرب کے لیے پروازیں بدستور بحال
دوسری جانب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ تر پروازیں متاثر ہوئیں پیر کے روز صرف اتحاد ایئرویز کی ابو ظہبی سے آنے والی پرواز لینڈ کر سکی جبکہ دبئی شارجہ بحرین کویت اور مسقط سے کوئی پرواز روانہ نہ ہو سکی جس کے باعث ان روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق متعدد پروازوں کی منسوخی کی بنیادی وجہ خطے میں فضائی آپریشنز کی غیر یقینی صورتحال ہے
قومی ایئرلائن پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ سعودی عرب کے لیے اور وہاں سے آنے جانے والی پروازیں بدستور جاری ہیں اور ان میں کسی قسم کی معطلی نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے دیگر متاثرہ روٹس پر بھی پروازیں بحال کر دی جائیں گی
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی فوجی یا سیاسی کشیدگی کا سب سے فوری اثر فضائی صنعت پر پڑتا ہے کیونکہ ایئرلائنز کو مسافروں اور عملے کی سلامتی اولین ترجیح دینا ہوتی ہے پاکستان کی جانب سے مخصوص اوقات میں محدود فضائی راستوں کی بندش اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سیکیورٹی خدشات کو کم کرنا اور فضائی نظام کو محفوظ رکھنا ہے
حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پرواز سے قبل متعلقہ ایئرلائن سے تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں اور ایئرپورٹ آنے سے پہلے فلائٹ اسٹیٹس کی تصدیق کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ تاخیر یا تبدیلی سے آگاہ رہ سکیں موجودہ صورتحال میں صبر اور احتیاط کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے جبکہ متعلقہ ادارے چوبیس گھنٹے حالات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ملکی فضائی حدود میں محفوظ اور منظم آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے

