پاکستان نیوی میں دوسرا ملگیم کلاس کورویٹ شامل
پاکستان نیوی نے اپنی بحریہ میں دوسرا ملگیم کلاس کورویٹ شامل کر لیا ہے نیوی کے ترجمان کے مطابق یہ جہاز چار کورویٹس میں سے دوسرا ہے جس کا معاہدہ دو ہزار اٹھارہ میں ترکی کی اسفٹ کمپنی کے ساتھ کیا گیا تھا اس معاہدے کے تحت دو جہاز ترکی میں اور دو پاکستان میں تیار کیے جائیں گے
پی این ایس خیبر کی تقریب شمولیت دسمبر دو ہزار پچیس میں استنبول نیول شپ یارڈ میں منعقد ہوئی اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردگان نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع اہم سمندری تجارتی اور توانائی کے راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے ایک مضبوط بحریہ کی ضرورت ہے تاکہ قومی مفادات کی حفاظت اور سمندری رابطے محفوظ رہیں انہوں نے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ کے دوران بحریہ کی مہارت کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کی بحریہ بھارتی ایئرکرافٹ کیریئر کو نشانہ بنانے کے لیے تیار تھی جس کی وجہ سے دشمن کے جہاز اور اسکواڈرن واپس چلے گئے
ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ مارکہ حق کے دوران بحری آپریشنز کی مہارت واضح پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی کوشش کے ذریعے پاکستان کے سمندری مفادات کو چیلنج کرنا خطرناک ثابت ہو گا انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید پلیٹ فارمز سے لیس کیا جا رہا ہے جس سے دشمن کے اہم انفراسٹرکچر اور بحری اثاثے نشانہ بنائے جا سکتے ہیں
پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت
وزیراعظم شہباز شریف نے خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور سمندری حدود کی مؤثر حفاظت کی طرف ایک سنگ میل ہے انہوں نے کہا کہ جدید پلیٹ فارمز بشمول پی این ایس خیبر اور آئندہ ہانگر کلاس سب میرینز کی شمولیت پاکستان نیوی کی آپریشنل صلاحیت اور دفاعی قوت کو بڑھائے گی
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع عالمی تجارتی اور توانائی کے اہم راستوں کے قریب ہونے کی وجہ سے انتہائی اہم ہے ایک مضبوط متوازن اور جدید تکنیکی بحریہ قومی مفادات کے تحفظ اور سمندری رابطوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے
تیسرے ملگیم کلاس جہاز کی بنیاد جنوری دو ہزار اکیس میں رکھی گئی تھی جس کے بعد اردگان نے اس کی ویلڈنگ کا آغاز کیا اس شمولیت سے پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت اور اسٹریٹجک رسائی میں اضافہ ہوگا
ملگیم کلاس کورویٹ کی شمولیت پاکستان نیوی کے جدید بحری آپریشنز کو مضبوط بناتی ہے اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے اہم قدم ہے پاکستان نیوی کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحریہ قومی سلامتی کے لیے اہم اثاثہ ہے اس اقدام سے سمندری تجارتی راستے محفوظ ہوں گے اور قومی دفاعی پالیسی مضبوط ہو گی پاکستان نیوی کی مسلسل جدید کاری سے ملکی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں یہ منصوبہ ملکی دفاع کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا

