Mon. Feb 23rd, 2026

پنجاب میں سرکاری تنصیبات کی چوری پر سخت سزاؤں کا نیا قانون منظور

پنجاب میں سرکاری تنصیبات کی چوری پر سخت سزاؤں کا نیا قانون منظور گٹروں کے ڈھکن اور اسٹریٹ لائٹس کی چوری روکنے کے لیے اہم اقدام چوری شدہ سرکاری سامان کی خرید و فروخت پر قید اور بھاری جرمانے کباڑ مافیا کے خلاف پنجاب حکومت کا بڑا کریک ڈاؤن رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور گرانفروشی کے خلاف سخت کارروائیاں پنجاب میں عوامی املاک کے تحفظ کے لیے سخت قانون نافذ سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے نئی سزائیں مقرر مہنگائی مافیا کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کارروائی پنجاب میں شہری سہولیات کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر حکومت کا سخت ردعمل
پنجاب میں سرکاری تنصیبات کی چوری پر سخت سزاؤں کا نیا قانون منظور گٹروں کے ڈھکن اور اسٹریٹ لائٹس کی چوری روکنے کے لیے اہم اقدام چوری شدہ سرکاری سامان کی خرید و فروخت پر قید اور بھاری جرمانے کباڑ مافیا کے خلاف پنجاب حکومت کا بڑا کریک ڈاؤن رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور گرانفروشی کے خلاف سخت کارروائیاں پنجاب میں عوامی املاک کے تحفظ کے لیے سخت قانون نافذ سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے نئی سزائیں مقرر مہنگائی مافیا کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کارروائی پنجاب میں شہری سہولیات کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر حکومت کا سخت ردعمل

سرکاری تنصیبات کی چوری پر سخت سزاؤں کا نفاذ

پنجاب حکومت نے سرکاری تنصیبات کی چوری اور توڑ پھوڑ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت سخت سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اس فیصلے کا مقصد عوامی املاک کا تحفظ یقینی بنانا اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے حالیہ برسوں میں گٹروں کے ڈھکن اسٹریٹ لائٹس اور دیگر سرکاری سامان کی چوری کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے باعث کئی شہری حادثات کا شکار ہوئے اور قیمتی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے

محکمہ ہاؤسنگ شہری ترقی اور صحت عامہ انجینئرنگ نے اس قانون کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا یہ محکمہ واسا ترقیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کا نگران ہے حکام کے مطابق منظم گروہ سرکاری سامان چرا کر اسے فروخت کرتے تھے جس سے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچتا تھا بلکہ شہری سہولیات بھی متاثر ہوتی تھیں نئے قانون کے تحت سرکاری تنصیبات کی چوری کرنے والوں کو ایک سے تین سال تک قید اور دو لاکھ سے تیس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے اسی طرح سرکاری سامان کو غیر قانونی طور پر ہٹانے خریدنے یا فروخت کرنے پر بھی اسی نوعیت کی سزا دی جائے گی

اگر کوئی شخص سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچائے تو اسے تین ماہ سے ایک سال تک قید اور پچاس ہزار سے دو لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ کباڑ کا کاروبار کرنے والوں اور دھات پگھلانے والے کارخانوں پر بھی سخت نظر رکھی جائے گی اگر وہ چوری شدہ سامان خریدتے یا پراسیس کرتے پائے گئے تو انہیں تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سزا مزید سخت ہوگی اور قید کی مدت چھ سال تک بڑھ سکتی ہے

رمضان میں مصنوعی مہنگائی کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا کریک ڈاؤن

حکام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے نتیجے میں کسی شہری کی جان چلی جائے تو تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات بھی نافذ کی جائیں گی اس قانون کی تیاری ایک خصوصی ٹیم نے کی تاکہ منظم جرائم کے اس جال کو توڑا جا سکے جو سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہا تھا حکومت کا مؤقف ہے کہ سخت کارروائی سے نہ صرف عوامی وسائل محفوظ ہوں گے بلکہ شہروں میں صفائی روشنی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی بہتر ہو سکے گی

دوسری جانب ماہ رمضان کے دوران مصنوعی مہنگائی کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے بھی بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر گھی آٹا اور چینی ذخیرہ کرنے والے دو گودام سیل کر دیے گئے اس کارروائی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر نے کی اطلاع ملنے پر نواں کوٹ اور گلشن راوی میں کارروائی کی گئی جہاں مبینہ طور پر اشیائے ضروریہ ذخیرہ کی جا رہی تھیں مزید برآں سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والی دو دکانیں بھی بند کی گئیں جبکہ متعدد دکانداروں کو مقررہ قیمت سے زائد وصولی پر جرمانے عائد کیے گئے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی

متعلقہ پوسٹس