Mon. Feb 2nd, 2026

کراچی گُل پلازا آگ ہلاکتیں 22 تک پہنچ گئیں ریسکیو آپریشن جاری

کراچی گُل پلازا آگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہو گئی ہے، ریسکیو ٹیمیں لاشیں نکالنے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ یہاں پڑھیں۔ گُل پلازا شاپنگ سینٹر میں آگ کے بعد زخمیوں کا علاج اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ حادثے کی وجوہات اور امدادی کارروائی کے بارے میں جانیں۔ کراچی آگ حادثہ: ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا رہی ہیں، پولیس اور ادھی فاؤنڈیشن عوام کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ تفصیلات یہاں دستیاب ہیں۔
کراچی گُل پلازا آگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہو گئی ہے، ریسکیو ٹیمیں لاشیں نکالنے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ یہاں پڑھیں۔ گُل پلازا شاپنگ سینٹر میں آگ کے بعد زخمیوں کا علاج اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ حادثے کی وجوہات اور امدادی کارروائی کے بارے میں جانیں۔ کراچی آگ حادثہ: ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا رہی ہیں، پولیس اور ادھی فاؤنڈیشن عوام کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ تفصیلات یہاں دستیاب ہیں۔

کراچی گُل پلازا آگ ہلاکتیں بڑھ کر 22 ہو گئیں ریسکیو آپریشن جاری

کراچی کے گُل پلازا شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے پیر کے دن پہلی منزل سے مزید لاشیں نکالی ہیں، جبکہ ٹھنڈا کرنے کے اقدامات مکمل ہونے کے بعد سرچ آپریشن کو دوسری اور تیسری منزل تک بڑھایا جائے گا

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جلجوبلی علاقے کا حصہ شدید نقصان کا شکار ہوا ہے، جہاں عمارت کا سامنے والا حصہ مکمل طور پر گر گیا۔ موجودہ وقت میں ریسکیو ٹیموں کی توجہ بنیادی طور پر تہہ خانے اور گراؤنڈ فلور پر ہے، جہاں بھاری ملبہ ریسکیو آپریشن کو مشکل بنا رہا ہے

کراچی واٹر بورڈ کے ہائیڈرینٹ سیل کے انچارج صادق تنیو نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے تقریباً 14 لاکھ گیلن پانی استعمال کیا گیا، جو شہر کے مختلف ہائیڈرینٹس سے فراہم کیا گیا۔ تقریباً 36 گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد فائرفائٹرز نے آگ پر قابو پایا، مگر اہلکار خبردار کر رہے ہیں کہ عمارت ابھی بھی غیر محفوظ ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے

فائر بریگیڈ کے چیف افسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “مرکزی آگ کو بجھا دیا گیا ہے، مگر عمارت شدید نقصان کا شکار ہے، اس لیے صرف ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے

ریسکیو ٹیموں کا کام جاری لاشیں نکالنا اور ملبہ ہٹانا

ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کئی افراد لاپتہ ہیں، جبکہ پولیس موبائل ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ 59 لاپتہ افراد کے نمبر حاصل کیے گئے ہیں اور ان میں سے 26 کی موجودگی گُل پلازا کے قریب ثابت ہوئی ہے

کئی زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں کچھ دھوئیں اور جلنے کے اثرات کے باعث متاثر ہوئے۔ دو فائرفائٹرز، ارشاد اور بلال، بھی زخمی ہو گئے اور اسپتال میں علاج کر رہے ہیں

ادھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ادھی نے کہا کہ 55 سے زیادہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے رابطہ کیا ہے اور انہیں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور آگ زدہ عمارت کے قریب نہ جائیں

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی موقع کا دورہ کیا اور متاثرین کو زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کی ابتدائی وجہ شاید شارٹ سرکٹ تھی، جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی

پولیس اور اسمبلی کی ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کی کوششیں

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حادثے ک اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ ایک عدالتی کمیشن قائم ہونا چاہیے جو آگ کی حفاظتی تدابیر، ایمرجنسی ایگزٹ اور فائرفائٹرز کی تیاری کے بارے میں سوالات کے جواب دے سکے

جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما محمد فاروق نے بھی اسمبلی میں ایڈجورمنٹ موشن کے ذریعے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے

سندھ ہائی کورٹ میں بھی ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں سندھ حکومت، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو پارٹی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے

یہ حادثہ  کراچی  شہر کی حفاظت اور فائر سیفٹی سسٹم پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے اور عوام میں تشویش بڑھاتا ہے

متعلقہ پوسٹس