Fri. Feb 6th, 2026

پاکستان اور سعودی عرب کا جی ایف سترہ طیاروں پر عسکری معاہدہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ قرض کی رقم کو جدید جی ایف سترہ طیاروں کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی بات چیت جاری ہے۔ جانیں کہ یہ معاہدہ کس طرح پاکستان کی فضائی قوت میں اضافہ کرے گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کی باہمی دفاعی تعاون کی تازہ ترین خبریں۔ قرض کی رقم طیاروں کی خریداری میں تبدیل کرنے کے منصوبے سے خطے میں عسکری تعلقات کو نئی جہت مل رہی ہے
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ قرض کی رقم کو جدید جی ایف سترہ طیاروں کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی بات چیت جاری ہے۔ جانیں کہ یہ معاہدہ کس طرح پاکستان کی فضائی قوت میں اضافہ کرے گا۔ سعودی عرب اور پاکستان کی باہمی دفاعی تعاون کی تازہ ترین خبریں۔ قرض کی رقم طیاروں کی خریداری میں تبدیل کرنے کے منصوبے سے خطے میں عسکری تعلقات کو نئی جہت مل رہی ہے

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون میں اضافہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعلقات میں نئی حرارت
اسلام آباد میں ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون کے تحت ایک اہم معاہدے پر بات چیت جاری ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دی گئی قرض کی رقم کو جدید لڑاکا طیاروں کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے

ذرائع کے مطابق یہ بات چیت خاص طور پر جی ایف سترہ تھنڈر طیاروں کے حصول پر مرکوز ہے یہ طیارہ پاکستان اور چین کی مشترکہ کوشش سے تیار کیا گیا ہے اور ملک میں ہی اس کی پیداوار ہوتی ہے ایک اور ذریعے کے مطابق یہ طیارے دیگر آپشنز کے مقابلے میں ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں

اس معاہدے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب پاکستان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور سعودی عرب اپنی سیکورٹی پالیسی میں تبدیلیاں کر رہا ہے تاکہ مشرق وسطی میں غیر یقینی صورتحال کے دوران اپنے دفاعی تعلقات مضبوط کر سکے

جی ایف سترہ تھنڈر طیارے، جدید تکنیکی صلاحیتوں سے لیس

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اس معاہدے کی مالیت چار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں قرض کی رقم کے علاوہ اضافی دو ارب ڈالر کا سامان خریدنے پر خرچ کیا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفصیلات تاحال خفیہ رکھی گئی ہیں اور جو لوگ اس کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کی ہیں

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ پچھلے سال دستخط کیا گیا تھا اس معاہدے کے بعد دونوں ملک عسکری تعاون کو عملی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں ذرائع کے مطابق اس اقدام کے پیچھے خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی ایک محرک ہے

اس عسکری تعاون کے تحت پاکستان کو نہ صرف جدید لڑاکا طیارے حاصل ہوں گے بلکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی جس سے دونوں ملکوں کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا پاکستان کے ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ ملک کی عسکری اور تکنیکی ترقی کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے

پاکستان کی فضائی قوت میں اضافہ اور دفاعی استحکام

ذرائع نے مزید بتایا کہ بات چیت کا عمل ابھی جاری ہے اور مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم جی ایف سترہ تھنڈر طیاروں کو ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ یہ طیارے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور ملکی فضائی حدود کے دفاع کے لیے انتہائی موثر سمجھے جاتے ہیں

یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور خطے میں عسکری توازن پر بھی اثر ڈالے گا ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دونوں ملکوں کو خطے میں خودمختار اور مستحکم بنائیں گے

پاکستان کی فضائی قوت میں اضافہ اور سعودی عرب کی مالی معاونت سے یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے لیے ایک فائدہ مند شراکت ثابت ہوگا ذرائع کے مطابق معاہدے کی حتمی شکل جلد طے پانے کا امکان ہے اور اس سے خطے میں دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی

اس بات چیت کا مقصد نہ صرف طیاروں کی فراہمی ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد اور عسکری تعلقات کو بھی مستحکم کرنا ہے اس طرح کے اقدامات خطے میں استحکام کے لیے اہم ہیں اور دونوں ملکوں کے شہریوں کے لیے سلامتی کی ضمانت فراہم کرتے ہیں

متعلقہ پوسٹس