Thu. Mar 12th, 2026

آبنائے ہرمز بحران کے بعد سعودی عرب نے صحرائی تیل پائپ لائن فعال کر دی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب نے صحرائی تیل پائپ لائن فعال کر دی ہے جس کے ذریعے بحیرہ احمر کے راستے دنیا کو تیل فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایران اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر سعودی عرب نے ہنگامی منصوبہ شروع کر دیا صحرائی پائپ لائن کے ذریعے عالمی منڈی تک تیل پہنچانے کی تیاری آبنائے ہرمز بحران نے عالمی توانائی منڈی کو خطرے میں ڈال دیا سعودی عرب نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے بڑی تیل پائپ لائن فعال کر دی خلیج میں جنگ کے اثرات کے باعث سعودی عرب نے تیل برآمد کرنے کے لیے نیا راستہ اختیار کیا ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی منڈی کو وقتی سہارا مل سکتا ہے عالمی توانائی بحران کے خدشے کے دوران سعودی عرب نے پرانی مگر اہم پائپ لائن کو دوبارہ فعال کر دیا جس سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل ممکن ہو گی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب نے صحرائی تیل پائپ لائن فعال کر دی ہے جس کے ذریعے بحیرہ احمر کے راستے دنیا کو تیل فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایران اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر سعودی عرب نے ہنگامی منصوبہ شروع کر دیا صحرائی پائپ لائن کے ذریعے عالمی منڈی تک تیل پہنچانے کی تیاری آبنائے ہرمز بحران نے عالمی توانائی منڈی کو خطرے میں ڈال دیا سعودی عرب نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے بڑی تیل پائپ لائن فعال کر دی خلیج میں جنگ کے اثرات کے باعث سعودی عرب نے تیل برآمد کرنے کے لیے نیا راستہ اختیار کیا ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی منڈی کو وقتی سہارا مل سکتا ہے عالمی توانائی بحران کے خدشے کے دوران سعودی عرب نے پرانی مگر اہم پائپ لائن کو دوبارہ فعال کر دیا جس سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل ممکن ہو گی

سعودی عرب نے صحرائی تیل پائپ لائن فعال کر دی

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب نے اپنے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک اہم اور ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے سعودی حکام نے دہائیوں پرانی صحرائی پائپ لائن کو دوبارہ مکمل طور پر استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خلیج کی بندرگاہوں کی بجائے بحیرہ احمر کے راستے دنیا بھر تک تیل پہنچایا جا سکے

جنگی حالات کے باعث خلیج فارس کے راستے تیل کی ترسیل تقریباً معطل ہو چکی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث بحری جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے اس صورتحال نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خلیجی خطے کی معیشت اور توانائی کی صنعت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے

سعودی عرب کی سرکاری توانائی کمپنی آرامکو نے حالیہ مالیاتی اجلاس میں بتایا کہ حکومت مشرق سے مغرب تک پھیلی بڑی پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل میں تیزی لانے کی کوشش کر رہی ہے اس پائپ لائن کو عام طور پر پیٹرولائن کہا جاتا ہے جو ملک کے مشرقی حصے میں موجود تیل کے ذخائر کو مغربی ساحل کے برآمدی ٹرمینلز سے جوڑتی ہے

آبنائے ہرمز بند ہونے پر سعودی عرب نے متبادل تیل پائپ لائن استعمال شروع کر دی

آرامکو کے سربراہ امین ناصر کے مطابق موجودہ بحران خلیجی خطے کی تیل اور گیس صنعت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی تیل منڈیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے

یہ پائپ لائن تقریباً سات سو پچاس میل طویل ہے اور اس کی یومیہ گنجائش تقریباً ستر لاکھ بیرل تیل بتائی جاتی ہے یہ نیٹ ورک خلیج فارس کو بحیرہ احمر سے جوڑتا ہے جس کے ذریعے سعودی عرب کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خلیجی راستہ بند ہونے کے باوجود اپنی برآمدات جاری رکھ سکے

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل حل نہیں ہے کیونکہ جنگ سے پہلے خلیج کے راستے روزانہ تقریباً اکیس ملین بیرل تیل دنیا بھر میں بھیجا جاتا تھا جبکہ اس پائپ لائن کے ذریعے اضافی ترسیل اس مقدار کا صرف ایک حصہ ہی پوری کر سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بدستور دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے

دوسری جانب ایران کی جانب سے خطے میں امریکی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس کے باعث خلیجی ممالک میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے بعض رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے اطراف سمندری بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں جس سے بحری راستہ مزید خطرناک ہو گیا ہے

عالمی توانائی بحران کا خدشہ سعودی عرب کی بڑی پائپ لائن دوبارہ فعال

امریکی حکام بھی اس صورتحال پر پریشان دکھائی دیتے ہیں کیونکہ واشنگٹن میں ہونے والی بریفنگ کے بعد بعض سینیٹرز نے اعتراف کیا کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کا فوری حل فی الحال نظر نہیں آ رہا اگر یہ بحران جاری رہا تو عالمی توانائی کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے

سعودی عرب کی متبادل پائپ لائن اگرچہ تیل کی کچھ مقدار کو بحیرہ احمر تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے مگر اس راستے پر بھی خطرات موجود ہیں کیونکہ یمن میں موجود حوثی گروہ کسی بھی وقت ان تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں اگر ایسا ہوا تو خطے میں توانائی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی توانائی کا نظام کس قدر حساس ہے اور کسی ایک اہم بحری راستے کی بندش پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے اسی وجہ سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اب متبادل راستوں اور نئے توانائی منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے

متعلقہ پوسٹس