ایران کی معیشت کو درپیش مشکلات
یورپ اور امریکہ کی پابندیوں اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان ایران کی معیشت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے عوامی سطح پر اس کا اثر عام شہریوں کی زندگیوں پر براہِ راست محسوس کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں حالیہ احتجاجات پھوٹ پڑے ہیں دسمبر کی آخری تاریخ میں تہران کے تجارتی مراکز میں دکانداروں، تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایرانی ریال کی قدر میں کمی اور خراب ہوتی اقتصادی صورتحال کے خلاف مظاہرے کیے اور یہ مظاہرے رفتہ رفتہ ملک بھر میں پھیل گئے ہیں احتجاج میں مزدور، طلبہ اور دیگر شہریوں نے بھی حصہ لیا ہے
ایرانی صدر نے اتوار کے روز کہا کہ حکومت اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے صدر کے مشیر نے اعتراف کیا کہ حکومت کو کمیوں اور مشکلات کا سامنا ہے اور عوام کے اقتصادی تحفظات کو دور کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے
ریال کی قدر میں کمی بحران کی اصل وجہ ہے ایرانی ریال نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمی دیکھی ہے اور کھلی مارکیٹ میں تاریخی کم ترین سطح تک پہنچ گیا ہے ایک سال پہلے ریال کی قیمت سات لاکھ سترہ ہزار فی ڈالر تھی جو اب ساڑھے چودہ لاکھ سے پندرہ لاکھ کے درمیان تجارت کر رہا ہے اس کمی نے عام ایرانی شہریوں کی خریداری کی طاقت کو بری طرح متاثر کیا ہے
غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی رکاوٹیں
مہنگائی نے زندگی کے معیار کو بُری طرح متاثر کیا ہے سالانہ مہنگائی کی شرح چالیس فیصد سے اوپر رہی ہے خوراک اور رہائش کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھیں ہیں جبکہ اجرتیں اس رفتار سے نہیں بڑھیں جس سے گھریلو آمدنی کم ہوگئی ہے بہت سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندان بنیادی ضروریات پر اخراجات کم کرنے پر مجبور ہیں سرکاری امداد ماہانہ سبسڈی اور خوراکی اشیاء کی فراہمی کے باوجود مہنگائی کے اثرات کم نہیں ہوئے ہیں
بین الاقوامی پابندیاں اور تیل کی آمدنی کی کمی ایران کی معیشت پر سنگین اثر ڈال رہی ہیں امریکی پابندیوں کی وجہ سے بینکنگ لین دین، تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی مالی نظام تک رسائی محدود ہے تیل کی پیداوار میں کمی سے سرکاری آمدنی پر بھی برا اثر پڑا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جس کے سبب ملک کو غیر سرکاری اور مہنگے ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے
حالیہ پانچ سالوں میں ایران کی معیشت میں اتار چڑھاؤ رہا ہے ابتدائی طور پر تیل کی برآمدات اور اندرونی خدمات کی وجہ سے معیشت میں معمولی بہتری آئی مگر حالیہ سالوں میں سخت پابندیوں بلند مہنگائی اور توانائی کی کمی کے سبب نمو تقریباً رک گئی ہے
ملازمت کی صورتحال میں بھی نوجوانوں کی بے روزگاری ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے جبکہ کل بے روزگاری کی شرح کچھ کم ہوئی ہے نوجوانوں میں بے روزگاری بیس سے تین بیس فیصد کے درمیان ہے جو قومی اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک سنگین امتحان ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے

