Mon. Mar 23rd, 2026

وزیر اعظم شہباز شریف نے مہنگی گاڑیوں کے ایندھن پر اضافی ٹیکس لگا دیا

وزیر اعظم شہباز شریف نے لگژری گاڑیوں کے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی بڑھا دی پاکستان میں لگژری گاڑیوں کے لیے ہائی آکٹین ایندھن پر تین سو روپے فی لیٹر لیوی ہائی آکٹین ایندھن کی قیمت میں اضافہ: شہباز شریف کی ہدایت اور عوامی ریلیف لگژری گاڑیوں کے ایندھن پر نیا ٹیکس اور معیشت پر اثر وزیر اعظم کا فیصلہ: لگژری گاڑیوں کے ہائی آکٹین ایندھن پر اضافہ اور بچت
وزیر اعظم شہباز شریف نے لگژری گاڑیوں کے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی بڑھا دی پاکستان میں لگژری گاڑیوں کے لیے ہائی آکٹین ایندھن پر تین سو روپے فی لیٹر لیوی ہائی آکٹین ایندھن کی قیمت میں اضافہ: شہباز شریف کی ہدایت اور عوامی ریلیف لگژری گاڑیوں کے ایندھن پر نیا ٹیکس اور معیشت پر اثر وزیر اعظم کا فیصلہ: لگژری گاڑیوں کے ہائی آکٹین ایندھن پر اضافہ اور بچت

وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت

وزیر اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز ہائی آکٹین ایندھن پر لگژری گاڑیوں کے لیے لیوی میں دو سو روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے اس فیصلے کا مقصد سب سے مہنگی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن پر بوجھ ڈالنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے وزیر اعظم نے ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہائی آکٹین ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ سب سے مہنگی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن پر لیوی بڑھائی جائے حکومت کے اعلامیہ کے مطابق اب اس ایندھن پر تین سو روپے فی لیٹر کی لیوی لاگو ہوگی

اس فیصلے سے حکومت کو ماہانہ نو ارب روپے کی بچت ہوگی اور وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق یہ رقم عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس اقدام سے معیشت پر بوجھ کم ہوگا اور ملک کے امیر ترین طبقے کو اس کا اثر پڑے گا تاہم عام اور درمیانے طبقے پر کوئی اثر نہیں ہوگا عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اس فیصلے سے عوامی ٹرانسپورٹ اور ہوائی کرایوں کی قیمتوں میں بھی فرق نہیں آئے گا

دو ہفتے قبل حکومت نے ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کیا تھا یہ بحران ایران پر جاری جنگ کے سبب پیدا ہوا تھا اس کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاؤنس میں پچاس فیصد کمی کی گئی اور چار دنہ ہفتہ کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا

عوامی ریلیف اور معیشت پر اثر

عوامی شعبے کے ملازمین میں سے پچاس فیصد افراد گھر سے کام کریں گے جبکہ ضروری خدمات فراہم کرنے والے اس سے مستثنی ہیں حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ ایندھن کی بچت کے اقدامات اپنائیں تاکہ آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہ ہو

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی دیگر سفارشات مسترد کر دی ہیں اور متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ ریلیف صرف مستحق اور ضرورت مند افراد تک محدود رہے وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی پہلے کے ایک سو روپے فی لیٹر سے بڑھا کر دو سو روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے اس اقدام کا مقصد صرف امیر ترین طبقے پر بوجھ ڈالنا ہے اور نچلے اور درمیانے طبقے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا

حکومت کے مطابق اس فیصلے سے حاصل ہونے والی رقم عوامی فلاح اور ریلیف کے منصوبوں میں استعمال کی جائے گی وزیر اعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل نگرانی کریں تاکہ ریلیف صحیح طریقے سے مستحق افراد تک پہنچے اور عوامی ٹرانسپورٹ یا دیگر سیکٹر میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو اس اقدام سے حکومت کو مالی بچت کے ساتھ ساتھ عوامی ریلیف فراہم کرنے کا موقع بھی ملے گا اور ملک کی معیشت پر پڑنے والا دباؤ کم ہوگا

متعلقہ پوسٹس