پٹرول قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی میں تیزی
راولپنڈی میں حالیہ دنوں میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ایک نئی مشکل بن کر سامنے آیا ہے اس اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو بڑھایا بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کو بھی مہنگا کر دیا ہے مہنگائی پاکستان 2026 کی صورتحال میں عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں اور گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے
کراچی فیصل آباد اور سرگودھا جیسے بڑے شہروں سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں پٹرول قیمت پاکستان میں اضافے کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے جس سے عوام کی قوت خرید کم ہو رہی ہے
موجودہ صورتحال میں دودھ کی قیمت دو سو تیس روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ دہی بھی دو سو چالیس سے دو سو پچاس روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے اسی طرح دال چنا تین سو نوے روپے فی کلو اور چاول چار سو روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں گوشت کی قیمت پاکستان میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جہاں مٹن دو ہزار سات سو روپے فی کلو اور بیف پندرہ سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے
دالوں کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے سفید چنے چار سو تیس روپے فی کلو لال لوبیا پانچ سو پچاس روپے فی کلو اور ماش کی دال پانچ سو اسی روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ مرغی کی قیمت چھ سو بیس روپے فی کلو ہو چکی ہے یہ تمام اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوڈ انفلیشن پاکستان تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے
سبزیوں کی قیمتیں آج عام آدمی کے لیے مشکل
سبزیوں کی قیمتوں پر نظر ڈالیں تو آلو پچاس روپے فی کلو پیاز اسی روپے فی کلو اور ٹماٹر ڈھائی سو روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں لیموں ڈیڑھ سو روپے فی کلو لہسن پانچ سو روپے فی کلو اور ادرک چار سو پچاس سے پانچ سو پچاس روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے سبزیوں کی قیمتیں آج کے حالات میں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں
دیگر سبزیوں میں بھنڈی تین سو روپے فی کلو کریلا ڈیڑھ سو روپے فی کلو پھول گوبھی نوے سے سو روپے فی کلو شملہ مرچ سو روپے فی کلو اور مٹر نوے روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں یہ تمام اشیاء روزمرہ کھانے کا اہم حصہ ہیں مگر مہنگائی کی وجہ سے عوام انہیں خریدنے سے قاصر ہو رہے ہیں
پھلوں کی قیمتوں میں بھی واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے امرود دو سو سے ڈھائی سو روپے فی کلو سیب تین سو سے چار سو روپے فی کلو اور کیلا ڈھائی سو روپے درجن فروخت ہو رہا ہے کینو اور دیگر ترش پھل تین سو سے چار سو روپے درجن جبکہ انار سات سو روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے
انگور چھ سو پچاس سے سات سو پچاس روپے فی کلو پپیتا تین سو پچاس روپے فی کلو اسٹرابیری تین سو پچاس روپے فی کلو ناشپاتی پانچ سو روپے فی کلو اور خربوزہ دو سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے یہ تمام قیمتیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان انفلیشن نیوز میں خوراک کی مہنگائی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے
موجودہ حالات میں عوام حکومت سے ریلیف کی امید کر رہے ہیں تاکہ مہنگائی پاکستان 2026 کے اس دباؤ کو کم کیا جا سکے اور عام شہری کو بنیادی ضروریات زندگی مناسب قیمت پر دستیاب ہو سکیں

