مرکزی حکومت کی ہدایت پٹرول پمپس کی سخت نگرانی
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے حکومت نے سخت اقدامات کی ہدایت جاری کردی ہے اسلام آباد میں بدھ کے روز مرکزی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے پٹرول پمپس کا باقاعدہ معائنہ کریں اور کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کو روکیں تاکہ عوام کو بلاوجہ پریشانی نہ ہو اس سلسلے میں حکومت نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر حامد یعقوب شیخ کو پٹرولیم ڈویژن کا سیکریٹری مقرر کیا جو گزشتہ چند ماہ سے اس عہدے پر خالی تھا وہ اس سے قبل سیکریٹری فائنانس اینڈ پلاننگ اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں
اوگرا نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے موجودہ ذخائر قومی ضروریات کے لیے کافی ہیں اور کسی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا ہنگامی خریداری کی ضرورت نہیں حکومت اس وقت پٹرول کی قیمتوں کا نظام بدلنے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت موجودہ پندرہ روزہ ریویو کے بجائے ہفتہ وار ریویو کا نفاذ کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے اور درآمدات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ سرکاری اور نجی شعبے میں ورک فرام ہوم پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ تیل کی کھپت میں کمی لائی جا سکے
اوگرا نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تیل کے ذخائر آرام دہ اور مقررہ معیار کے مطابق ہیں کسی بھی فرد یا ادارے کے لیے غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا غیر مجاز جگہوں پر پٹرولیم مصنوعات رکھنے کی سخت قانونی کارروائی ہوگی
عالمی کشیدگی کے باوجود ملک میں پٹرول کی دستیابی برقرار
اگر کوئی پمپس یا ڈپو غیر قانونی ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اسے سیل کیا جائے گا اور تمام صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے معائنہ کروائیں
عالمی سطح پر جاری کشیدگی، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے باعث رسد کے سلسلے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے مالی وزیر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں فی الحال ایندھن کی کمی نہیں مگر اگر جنگ طویل ہو گئی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے سعودی عرب سے متبادل آئل سپلائی کے راستے کی درخواست بھی کی جا چکی ہے
اسی دوران آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے اوگرا کے چیئرمین کو خط لکھ کر مقامی ریفائنریز کی جانب سے کئے گئے سپلائی وعدوں کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کی ہے ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی ریفائنریز نے اپنے وعدوں سے منحرف ہو کر او ایم سیز کو محدود مقدار فراہم کی جس کی وجہ سے او ایم سیز کی 21 دن کی اسٹاک کور کم ہو رہا ہے اگر صورتحال جاری رہی تو اسٹاک خطرناک حد تک پہنچ جائے گا خط میں اوگرا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریفائنریز کو اپنے وعدوں کی پابندی کرائی جائے اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور معمول کے مطابق ایندھن کا استعمال جاری رکھیں تاکہ مارکیٹ مستحکم اور رسد روان رہے حکومت اور ریگولیٹر کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات عوام کو بلاوجہ پریشانی سے بچانے اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں

