حکومت کا پیٹرول بم عوام پر مہنگائی کا نیا طوفان
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا معاشی جھٹکا بن گیا ہے حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 520 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے اس اچانک اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے
یہ اضافہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں ریکارڈ اضافہ بھی ایک بڑی وجہ ہے پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر 161 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے جو عوام پر براہ راست ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے حکومت نے یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے کیا کیونکہ آئی ایم ایف نے سبسڈی کی حد مقرر کر دی تھی
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوت خرید کو کم کر چکی ہے اور اب پیٹرول کی قیمتوں میں یہ اضافہ مہنگائی کے طوفان کو مزید تیز کرے گا ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے جس کا اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑے گا یوں عام شہری کے لیے زندگی گزارنا مزید مشکل ہو جائے گا
پاکستان کی معیشت پر بڑھتا ہوا دباؤ
حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی حالات خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن عوام اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی اور معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے
پاکستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے غربت کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور آمدنی میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے ایسے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا
اس صورتحال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ متبادل اقدامات کرے جیسے کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے سرکاری مراعات کو کم کرے اور اشرافیہ پر ٹیکس لگائے تاکہ عام شہری پر بوجھ کم ہو سکے
کلیدی الفاظ پاکستان پیٹرول قیمت اضافہ مہنگائی آئی ایم ایف معاشی بحران پیٹرول ڈیزل قیمت عوامی مشکلات تیل بحران عالمی منڈی پیٹرولیم لیوی

