مرکز اور صوبوں کا عوامی ریلیف کے لیے مشترکہ فیصلہ
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد وفاقی حکومت اور صوبوں نے مل کر ایک نیا ریلیف پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس اقدام کا مقصد عام شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچانا ہے خاص طور پر وہ طبقہ جو مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے
حالیہ دنوں میں پٹرول کی قیمت چار سو اٹھاون روپے سے تجاوز کر گئی جبکہ ڈیزل بھی پانچ سو بیس روپے سے اوپر چلا گیا جس کے باعث عوامی مشکلات میں شدید اضافہ ہوا اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پرانے طریقے یعنی سب کے لیے یکساں سبسڈی دینے کے بجائے اب صرف مستحق افراد کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ اقدام پاکستان میں مہنگائی اور پٹرول قیمتوں میں اضافہ جیسے مسائل کے حل کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس نئے نظام کے تحت موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو خصوصی سبسڈی دی جائے گی اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کو بھی مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی فصلوں کی کٹائی کے دوران ڈیزل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ برداشت کر سکیں یہ سب اقدامات عوامی ریلیف اور حکومتی سبسڈی پروگرام کا حصہ ہیں
اس منصوبے کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا مال بردار گاڑیوں اور بسوں کے لیے بھی خصوصی مالی امداد رکھی گئی ہے تاکہ کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ نہ ہو اور عام لوگوں کو سستی سفری سہولت میسر رہے اسی طرح ریلوے کو بھی مدد دی جائے گی تاکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے سفر آسان بنایا جا سکے
صوبوں کا مالی تعاون اور کردار
صوبوں نے بھی اس پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے پنجاب سندھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اربوں روپے مختص کیے ہیں پنجاب اس سلسلے میں سب سے آگے ہے جہاں لاکھوں موٹر سائیکل سواروں کسانوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچایا جائے گا یہ سب اقدامات پاکستان میں عوامی سہولت اور معیشت کی بہتری کے لیے کیے جا رہے ہیں
سندھ حکومت نے بھی ڈیجیٹل طریقے سے شہریوں کو ماہانہ امداد دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ کسانوں کے لیے خصوصی کارڈ متعارف کروائے جا رہے ہیں خیبر پختونخوا میں اس پروگرام پر عمل درآمد پہلے ہی شروع ہو چکا ہے جہاں لاکھوں افراد کو ماہانہ امداد دی جا رہی ہے
دوسری جانب بلوچستان میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہاں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں تاہم حکومت نے احساس پروگرام کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے
یہ فیصلہ ایک مشکل مگر ضروری قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پہلے سبسڈی امیر اور غریب دونوں کو یکساں ملتی تھی جس سے وسائل کا ضیاع ہوتا تھا اب حکومت کی کوشش ہے کہ صرف مستحق افراد کو فائدہ دیا جائے تاکہ پاکستان کی معیشت کو بھی سہارا ملے اور عوام کو بھی ریلیف حاصل ہو سکے
یہ نیا نظام نہ صرف مہنگائی پر قابو پانے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط معاشی پالیسی کی بنیاد بھی رکھے گا جس سے عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے گی اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہو سکے گا

