نیو زیلینڈ نے بھارت کے خلاف سیریز برابر کر دی
نيوزيلینڈ نے بھارت کے خلاف سیریز برابر کر دی، ڈیرل مچل اور ول ینگ کی شاندار اننگز نے ٹیم کو تاریخی فتح دلائی۔ راجکوٹ کے نئے اسٹیڈیم میں نیو زیلینڈ نے ۲۸۴ رنز کے ہدف کو سات وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا اور بھارت کے خلاف اپنی آٹھ میچوں کی ہار کا سلسلہ ختم کیا۔ بھارت کی جانب سے کل راہول نے شاندار سنچری بنائی جس نے بھارت کے سکور کو مضبوط بنایا، لیکن مچل اور ینگ نے ان کے خلاف بھرپور جواب دیا\
بھارت کی بیٹنگ کے آغاز میں محمد سراج، ہرشیت رانا اور پرسیدھ کرشنا نے بہترین گیند بازی کی اور نیو زیلینڈ کو دو وکٹوں تک محدود رکھا لیکن مچل نے جلدی سے کلدیپ یادو کا سامنا کیا اور جارحانہ انداز میں رنز بنانا شروع کیے۔ انہوں نے چھکوں اور چوکوں کے ذریعے سکور کو بڑھایا اور ول ینگ کے ساتھ مل کر ٹیم کا سکور مستحکم کیا
کل راہول نے ۹۲ گیندوں میں ۱۱۲ رنز کی سنچری بنائی جو ان کے کیریئر کی آٹھویں سنچری تھی۔ انہوں نے مختلف شاندار شاٹس کھیل کر بھارت کو اچھا آغاز دیا لیکن دیگر بیٹسمین زیادہ دیر تک رنز بنانے میں ناکام رہے۔ شوبھمن گل نے ۵۶ رنز کی اننگز کھیل کر ان کا ساتھ دیا لیکن راہول کے بعد ٹیم رنز بنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی تھی
نیو زیلینڈ کی بیٹنگ میں ڈیرل مچل نے جارحانہ انداز اپنایا اور ٹیم کو کم رن ریٹ میں فتح کی جانب لے گئے۔ ول ینگ نے بھی ۸۷ رنز کی اہم اننگز کھیلی اور بھارت کی بولنگ لائن کو دباؤ میں رکھا۔ کلدیپ یادو کے خلاف ان کے شاٹس خاص طور پر متاثر کن تھے جنہوں نے گیندباز کو دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا
نیو زیلینڈ کی جارحانہ بیٹنگ نے میچ کا فیصلہ کیا
بھارت کی بولنگ ٹیم نے ابتدا میں اچھا مظاہرہ کیا لیکن جیسے ہی مچل اور ینگ نے کنٹرول حاصل کیا، بھارت کے بولرز دباؤ میں آ گئے۔ پرانے گیند سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا پانے کے سبب بھارت کو نقصان ہوا۔ کچھ موقعوں پر رن آؤٹ اور کیچ چھوڑنے کی وجہ سے نیو زیلینڈ کو مزید فائدہ ملا اور ٹیم آسانی سے جیت کی جانب بڑھ گئی
نیوزی لینڈ نے اس کامیابی کے ساتھ نہ صرف سیریز برابر کی بلکہ بھارت کے خلاف اپنی ہار کا سلسلہ بھی ختم کر دیا۔ بھارت کو اپنی ٹیم میں توازن کے لئے سوچنا ہوگا اور نئے مواقع پر غور کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس طرح کی شکست سے بچا جا سکے۔ مچل کی سنچری اور ینگ کی اننگز بھارتی بولنگ کے خلاف تاریخی ثابت ہوئی اور نیو زیلینڈ کے لئے یہ جیت خاص اہمیت رکھتی ہے
یہ میچ ثابت کرتا ہے کہ کھیل کے دوران حالات اور پچ کا اثر رنز بنانے اور جیتنے میں کس حد تک اہم ہوتا ہے۔ بھارت کو اپنی بیٹنگ اور بولنگ میں مزید مضبوطی پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اگلے میچ میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں اور سریز میں دوبارہ برتری حاصل کر سکیں

