Sat. Feb 7th, 2026

پاکستان سپر لیگ 2026 سیاہت اور حیدرآباد کی نئی فرنچائزز

پاکستان سپر لیگ میں سیاہت اور حیدرآباد کی نئی ٹیمیں شامل ہو گئیں، بولیاں تاریخی، شائقین خوش اور لیگ مزید دلچسپ ہو گئی PSL 2026 میں سیاہت Rs1.85 ارب اور حیدرآباد Rs1.75 ارب میں فروخت، نئی فرنچائزز اور شائقین کے لیے جوش و ولولہ سیاہت اور حیدرآباد پہلی بار PSL میں حصہ لیں گے، بولی میں ریکارڈ، نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی اور شائقین کی خوشی پاکستان سپر لیگ میں دو نئے شہر شامل، بولیوں میں دلچسپ مقابلہ اور شائقین کے لیے ایک نیا جوش پیدا ہوا PSL 2026 میں نئی ٹیمیں، دلچسپ بولیاں، وسیم اکرم کی رہنمائی اور شائقین کے لیے بہترین کرکٹ کا موقع سیاہت اور حیدرآباد کی شمولیت سے PSL مزید دلچسپ، سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور شائقین کے لیے خوشیوں بھرا سیزن
پاکستان سپر لیگ میں سیاہت اور حیدرآباد کی نئی ٹیمیں شامل ہو گئیں، بولیاں تاریخی، شائقین خوش اور لیگ مزید دلچسپ ہو گئی PSL 2026 میں سیاہت Rs1.85 ارب اور حیدرآباد Rs1.75 ارب میں فروخت، نئی فرنچائزز اور شائقین کے لیے جوش و ولولہ سیاہت اور حیدرآباد پہلی بار PSL میں حصہ لیں گے، بولی میں ریکارڈ، نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی اور شائقین کی خوشی پاکستان سپر لیگ میں دو نئے شہر شامل، بولیوں میں دلچسپ مقابلہ اور شائقین کے لیے ایک نیا جوش پیدا ہوا PSL 2026 میں نئی ٹیمیں، دلچسپ بولیاں، وسیم اکرم کی رہنمائی اور شائقین کے لیے بہترین کرکٹ کا موقع سیاہت اور حیدرآباد کی شمولیت سے PSL مزید دلچسپ، سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور شائقین کے لیے خوشیوں بھرا سیزن

پاکستان سپر لیگ میں تاریخی اضافہ

پاکستان سپر لیگ میں ایک تاریخی لمحہ دیکھنے کو ملا ہے کیونکہ اس سال لیگ میں دو نئے ٹیمیں شامل کی گئی ہیں سیاہت اور حیدرآباد کے لیے شائقین کے لیے خوشی کی خبر ہے کہ او زی ڈویلپرز نے سیاہت کی ٹیم کے لیے ایک ریکارڈ دو ارب پچاسی کروڑ روپے کی بولی جیت کر سب کو حیران کر دیا جبکہ ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کے لیے ایک ارب پچھتر کروڑ روپے کی بولی جیت کر اپنی جگہ بنائی یہ بولیاں لیگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی مقبولیت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے

سیاہت کے لیے بولی کا مقابلہ او زی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان ہوا دونوں کمپنیوں نے سخت مقابلہ کیا آخرکار او زی ڈویلپرز نے اپنی بولی بڑھا کر ریکارڈ قائم کر دیا جبکہ حیدرآباد کی ٹیم کی بولی ایف کے ایس گروپ اور آئی ٹو سی کے درمیان تھی اور آخر میں ایف کے ایس گروپ نے کامیابی حاصل کی یہ دونوں ٹیمیں پہلی بار لیگ میں حصہ لے رہی ہیں اور اس سال کا سیزن تئیس مارچ سے تین مئی تک جاری رہے گا

نئے فرنچائز کے لیے ممکنہ شہروں میں فیصل آباد گلگت حیدرآباد مظفرآباد راولپنڈی اور سیاہت شامل تھے موجودہ ٹیموں میں لاہور قلندرز اسلام آباد یونائیٹڈ پشاور زلمی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کراچی کنگز اور ملتان سلطان شامل ہیں

لی کی تاریخ میں توسیع اور عالمی دلچسپی

نئے فرنچائز کی بولیوں میں ایف کے ایس او زی ڈویلپرز ایم نیکسٹ انک دہڑکی شوگر ملز انویریکس سولر آئی ٹو سی جاز پرزم ڈویلپرز وی جی او ٹی ای ایل اور ولی پاکستان نے حصہ لیا

بولی کے دوران سابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم نے مزہ دار انداز میں شرکاء کو حوصلہ دیا اور پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر بھی ان کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے

سلمان نصیر نے کہا کہ دس سال کی محنت اور لگن کے بعد یہ لمحہ ہمارے سامنے ہے جبکہ وسیم اکرم نے شرکاء کو یاد دلایا کہ فرنچائز جیتنا صرف ٹیم کی ملکیت نہیں بلکہ اس کا حصہ بننا ہے آپ ٹیم کے لوگو کٹس اور کھلاڑیوں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر سکتے ہیں

بولی کے عمل سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو نو کروڑ روپے اور ہانگ کانگ سکس جیتنے والی ٹیم کو ایک کروڑ اسی لاکھ روپے نقد انعام دیا یہ اقدام نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا گیا

سابق مالک علی ترین کا اعلان اور جنوبی پنجاب کا جذبہ

بولی کی آخری تاریخ کئی بار بڑھائی گئی ابتدا میں پندرہ دسمبر تھی جو بعد میں بائیس دسمبر اور پھر چوبیس دسمبر تک بڑھائی گئی تاکہ یورپ امریکہ اور مشرق وسطی کے سرمایہ کار بھی دلچسپی لے سکیں یہ دلچسپی لندن اور نیویارک میں پروموشنل روڈ شوز کے بعد بڑھ گئی

اس سے قبل سابق ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کا خاندان اس سال بولی میں حصہ نہیں لے گا انہوں نے کہا کہ ہمارا وقت ملتان سلطانز کے ساتھ صرف ٹیم کے مالک ہونے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ یہ جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے تھا جو طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے تھے اور اگر مستقبل میں لیگ میں واپس آنا ہوا تو وہ بھی صرف اسی مقصد کے لیے ہوگا

یہ نیا اضافہ پاکستان سپر لیگ کو مزید مضبوط کرے گا اور شائقین کے لیے نئے جوش اور ولولہ کا سبب بنے گا یہ دونوں شہر اب پہلی بار کے میدان میں اپنی نمائندگی کریں گے اور ہر طرف کرکٹ کے شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے

متعلقہ پوسٹس