پاکستان ٹیلی وژن کی تاریخی کامیابی فرسٹ کلاس کرکٹ میں نیا عالمی ریکارڈ
پاکستان ٹیلی وژن کی ٹیم نے ملکی کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے شائقین کرکٹ کو خوشی اور فخر سے بھر دیا ہے پریزیڈنٹ ٹرافی کے مقابلے میں پاکستان ٹیلی وژن نے نہ صرف فتح حاصل کی بلکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں کم ترین ہدف کا کامیاب دفاع کر کے عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا
اس تاریخی مقابلے میں سوئی ناردرن گیس کی ٹیم کو جیت کے لیے صرف چالیس رنز کا ہدف ملا تھا جو بظاہر ایک آسان ہدف سمجھا جا رہا تھا مگر پاکستان ٹیلی وژن کے کھلاڑیوں نے بھرپور حوصلے اور غیر معمولی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کو سینتیس رنز پر ڈھیر کر دیا اور صرف دو رنز سے کامیابی حاصل کی
یہ مقابلہ چار روزہ تھا اور تیسرے دن ہی فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ گیا پاکستان ٹیلی وژن کی ٹیم دفاعی چیمپئن کے طور پر میدان میں اتری تھی اور اس نے ثابت کر دیا کہ عزم محنت اور ٹیم ورک کے سامنے کوئی ہدف چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا
پاکستان ٹیلی وژن کے ہیڈ کوچ محمد وسیم نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کا نصب العین آخری گیند تک لڑنا ہے اور کبھی ہمت نہ ہارنا انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اتفاق نہیں بلکہ مسلسل محنت اور مثبت سوچ کا نتیجہ ہے
پی ٹی وی نے کرکٹ کی دو سو تریپن سالہ تاریخ میں نیا باب رقم کر دیا
سوئی ناردرن گیس کی بیٹنگ لائن اپ میں کئی معروف کھلاڑی شامل تھے جن میں قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود بھی موجود تھے مگر وہ کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہو گئے صرف ایک بلے باز دوہرے ہندسے تک پہنچ سکا جبکہ باقی کھلاڑی پاکستان ٹیلی وژن کے باؤلرز کے سامنے بے بس نظر آئے
پاکستان ٹیلی وژن کی جانب سے بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کیں جبکہ فاسٹ باؤلر عماد بٹ نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا دوسری اننگز میں صرف یہی دو باؤلرز استعمال کیے گئے جنہوں نے مل کر تاریخ رقم کر دی
سوئی ناردرن گیس کی ٹیم کے کوچ سابق قومی کپتان مصباح الحق ہیں جبکہ بیٹنگ کوچ کے فرائض سابق کپتان اظہر علی انجام دے رہے ہیں اس کے باوجود ٹیم اس کم ہدف کو حاصل نہ کر سکی
اس شاندار کامیابی پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی پاکستان ٹیلی وژن کی ٹیم کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ کامیابی میرٹ محنت اور صلاحیت کو آگے بڑھانے کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ جب سفارش کو رد کر کے صرف قابلیت کو ترجیح دی جائے تو ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہیں
یہ جیت نہ صرف پاکستان ٹیلی وژن بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے جس نے یہ ثابت کر دیا کہ قومی اداروں کی ٹیمیں بھی عالمی سطح کے ریکارڈ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں

