Sun. Feb 22nd, 2026

پاکستان اور بھارت کرکٹ کشیدگی پاکستانی کھلاڑیوں کی نیلامی میں شمولیت

کرکٹ مقابلہ تنازع دی ہنڈرڈ مقابلہ تازہ خبر انڈین پریمیئر لیگ اور پاکستانی کھلاڑی ایس اے بیس لیگ پاکستانی شرکت آئی ایل ٹی بیس لیگ تنازع پاکستان سپر لیگ خبریں پاکستان کرکٹ بورڈ مؤقف ہیری بروک بیان مائیکل وان تبصرہ کرکٹ اور سیاست پاکستان بھارت کرکٹ تعلقات عالمی کرکٹ تنازع خبر پاکستانی کرکٹرز تازہ اپڈیٹ
کرکٹ مقابلہ تنازع دی ہنڈرڈ مقابلہ تازہ خبر انڈین پریمیئر لیگ اور پاکستانی کھلاڑی ایس اے بیس لیگ پاکستانی شرکت آئی ایل ٹی بیس لیگ تنازع پاکستان سپر لیگ خبریں پاکستان کرکٹ بورڈ مؤقف ہیری بروک بیان مائیکل وان تبصرہ کرکٹ اور سیاست پاکستان بھارت کرکٹ تعلقات عالمی کرکٹ تنازع خبر پاکستانی کرکٹرز تازہ اپڈیٹ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی

حالیہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ انگلینڈ کے معروف مقابلے دی ہنڈرڈ میں بھارتی سرمایہ کاروں کی ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نیلامی میں

منتخب نہیں کریں گی بتایا جا رہا ہے کہ بھارت میں ممکنہ ردعمل کے خدشے کے باعث یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ مقابلہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام ہوتا ہے اور اس پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا براہ راست اختیار نہیں ہے

ان ٹیموں میں وہ گروپس شامل ہیں جو بھارتی لیگ انڈین پریمیئر لیگ سے وابستہ ہیں ماضی میں بھی جنوبی افریقہ کی لیگ ایس اے بیس اور متحدہ عرب امارات کی لیگ آئی ایل ٹی بیس میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ان ٹیموں کی ملکیت بھارتی گروپس کے پاس ہے اس روایت کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انگلینڈ کے اس مقابلے میں بھی یہی رویہ اختیار کیا جائے گا

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نیلامی میں پاکستان کے تریسٹھ کھلاڑیوں نے اپنا نام درج کروایا ہے جن میں قومی ٹیم کے بیشتر نمایاں کھلاڑی شامل ہیں جبکہ خواتین کی چار کھلاڑیوں نے بھی اندراج کروایا ہے اگر انہیں صرف سیاسی دباؤ کی وجہ سے نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف کھیل کی روح کے خلاف ہوگا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بھی متاثر ہوں گے

انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی منتخب نہ ہوئے تو یہ بدقسمتی ہوگی سابق کپتان مائیکل وان نے بھی واضح کیا کہ جب عالمی مقابلوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں تو پھر نجی ٹیموں کی سطح پر امتیاز کی کوئی منطق نہیں بنتی

انگلینڈ کے ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی ممکنہ نظراندازی

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمایاں لیگ پاکستان سپر لیگ میں دنیا بھر کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں اور یہاں کسی ملک کی بنیاد پر پابندی نہیں لگائی جاتی اسی طرح عالمی کپ جیسے مقابلوں میں بھی کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے حالیہ عالمی مقابلے میں پاکستان نے ابتدا میں ہچکچاہٹ دکھائی مگر کھیل کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا

اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریق کھیل کی اصل روح کو سمجھیں کرکٹ دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتی ہے اگر نجی سرمایہ کاری کے باوجود کسی ملک کے کھلاڑیوں کو صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ عالمی کھیل کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے عدم امتیاز کی پالیسی کا وعدہ کیا ہے اور اسے اس وعدے پر قائم رہنا ہوگا

شائقین کی خواہش ہے کہ میدان میں مقابلہ ہو اور فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر ہو اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو موقع دیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مقابلے کا معیار بلند ہوگا بلکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ کھیل سرحدوں سے بڑا ہوتا ہے کرکٹ کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اسے دوستی اور بھائی چارے کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے یہی کھیل کا حسن اور اصل مقصد ہے

متعلقہ پوسٹس