پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی
حالیہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ انگلینڈ کے معروف مقابلے دی ہنڈرڈ میں بھارتی سرمایہ کاروں کی ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نیلامی میں
منتخب نہیں کریں گی بتایا جا رہا ہے کہ بھارت میں ممکنہ ردعمل کے خدشے کے باعث یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ مقابلہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام ہوتا ہے اور اس پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا براہ راست اختیار نہیں ہے
ان ٹیموں میں وہ گروپس شامل ہیں جو بھارتی لیگ انڈین پریمیئر لیگ سے وابستہ ہیں ماضی میں بھی جنوبی افریقہ کی لیگ ایس اے بیس اور متحدہ عرب امارات کی لیگ آئی ایل ٹی بیس میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ان ٹیموں کی ملکیت بھارتی گروپس کے پاس ہے اس روایت کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انگلینڈ کے اس مقابلے میں بھی یہی رویہ اختیار کیا جائے گا
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نیلامی میں پاکستان کے تریسٹھ کھلاڑیوں نے اپنا نام درج کروایا ہے جن میں قومی ٹیم کے بیشتر نمایاں کھلاڑی شامل ہیں جبکہ خواتین کی چار کھلاڑیوں نے بھی اندراج کروایا ہے اگر انہیں صرف سیاسی دباؤ کی وجہ سے نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف کھیل کی روح کے خلاف ہوگا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بھی متاثر ہوں گے
انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی منتخب نہ ہوئے تو یہ بدقسمتی ہوگی سابق کپتان مائیکل وان نے بھی واضح کیا کہ جب عالمی مقابلوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں تو پھر نجی ٹیموں کی سطح پر امتیاز کی کوئی منطق نہیں بنتی
انگلینڈ کے ٹورنامنٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی ممکنہ نظراندازی
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی نمایاں لیگ پاکستان سپر لیگ میں دنیا بھر کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں اور یہاں کسی ملک کی بنیاد پر پابندی نہیں لگائی جاتی اسی طرح عالمی کپ جیسے مقابلوں میں بھی کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے حالیہ عالمی مقابلے میں پاکستان نے ابتدا میں ہچکچاہٹ دکھائی مگر کھیل کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا
اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریق کھیل کی اصل روح کو سمجھیں کرکٹ دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتی ہے اگر نجی سرمایہ کاری کے باوجود کسی ملک کے کھلاڑیوں کو صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ عالمی کھیل کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے عدم امتیاز کی پالیسی کا وعدہ کیا ہے اور اسے اس وعدے پر قائم رہنا ہوگا
شائقین کی خواہش ہے کہ میدان میں مقابلہ ہو اور فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر ہو اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو موقع دیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مقابلے کا معیار بلند ہوگا بلکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ کھیل سرحدوں سے بڑا ہوتا ہے کرکٹ کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے اسے دوستی اور بھائی چارے کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے یہی کھیل کا حسن اور اصل مقصد ہے

