صدر ٹرمپ کا ایران جنگ پر پہلا خطاب اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر اپنے پہلے قومی خطاب میں ملک اور دنیا کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس خطاب کو مختلف زاویوں سے رپورٹ کیا اور تجزیہ پیش کیا
سی این این کے سینئر رپورٹر اسٹیفن کولنسن نے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف کوئی واضح حکمت عملی نہیں بتائی ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے دعوے دہرائے اور کہا کہ امریکہ ایران میں اپنا مقصد جلد مکمل کرنے کے قریب ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر دو سے تین ہفتے کے لیے شدید بمباری جاری رکھی جائے گی
کولنسن کے مطابق صدر ٹرمپ کا خطاب عوام اور سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہا کہ جنگ کہاں جا رہی ہے اور عالمی توانائی بحران کے اثرات کس طرح کم ہوں گے کیونکہ امریکہ کی طرف سے کوئی واضح خروج کی حکمت عملی پیش نہیں کی گئی البتہ انہوں نے ایران کی قیادت کو تبدیل کرنے اور ملک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کیے
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے لیکن کسی واضح حکمت عملی سے عوام کو مطمئن نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد قیمتیں جلد کم ہو جائیں گی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے سے روکنے کے عزم کو دہرایا تاکہ گزشتہ سیاسی وعدے پورے ہوں
بی بی سی کی رپورٹ: سوشل میڈیا کے پیغامات دہرائے گئے
بی بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف معمولی دھمکیاں دہرائیں اور کہا کہ ایران کو مکمل نقصان پہنچایا جائے گا یہ خطاب صدر کے سوشل میڈیا پیغامات کے عین مطابق تھا اور کوئی نیا موقف پیش نہیں کیا گیا
نیو یارک ٹائمز نے بھی لکھا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کو تین ہفتوں میں ختم کرنے کا اندازہ لگایا لیکن واضح راستہ یا حکمت عملی پیش نہیں کی اور یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات یا زمینی فوجی کارروائی کے ذریعے جنگ ختم کی جائے گی انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ امریکہ کی بحری اور زمینی افواج کو ایران میں زمین پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے گا
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ کے خطاب میں عوام کو تسلی دینے یا ایران کے ایٹمی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہیں تھا خطاب میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے موجودہ دعوے، 15 مطالبات اور ایرانی صدر کے فائر بندی کے ممکنہ اقدامات کا ذکر بھی نہیں کیا گیا
سی این این، واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی اور نیو یارک ٹائمز کی رپورٹوں میں یہ واضح ہوا کہ صدر ٹرمپ نے ایران جنگ پر کوئی واضح حکمت عملی بیان نہیں کی بلکہ اپنے پرانے وعدے اور سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوے دوبارہ دہرائے بین الاقوامی میڈیا نے صدر ٹرمپ کے خطاب کو ایک طرفہ اور غیر واضح قرار دیا اور کہا کہ عوام اور دنیا کے لیے کوئی یقین دہانی فراہم نہیں کی گئی

