تہران کا امریکہ کو 14 نکاتی امن منصوبہ ارسال
تہران نے ایک اہم پیش رفت کے تحت امریکہ کو ایک چودہ نکاتی امن منصوبہ ارسال کیا ہے جس میں خطے میں جاری کشیدگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور اس منصوبے میں ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام محاذوں پر جنگ بندی کی جائے اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے نیا فریم ورک تشکیل دیا جائے اس میں آبنائے ہرمز کے لیے بھی ایک نیا کنٹرول میکانزم شامل کیا گیا ہے جو عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے یہ تجویز پاکستان کو بطور ثالث استعمال کرتے ہوئے امریکہ تک پہنچائی ہے جس میں پاکستان کے کردار کو خطے میں سفارتی اہمیت حاصل ہو رہی ہے اور یہ اقدام پاکستان کے امن مشن اور ثالثی کردار کو بھی نمایاں کرتا ہے
اس امن منصوبے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کے ارد گرد موجود امریکی افواج کو واپس بلایا جائے اور خطے میں موجود ناکہ بندی ختم کی جائے اس کے ساتھ ساتھ ایران کے منجمد اثاثے واپس کیے جائیں اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے
عالمی سیاست میں ایران امریکہ کشیدگی کا نیا موڑ
مزید یہ کہ اس منصوبے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ لبنان سمیت تمام خطوں میں جاری تنازعات کو بھی ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ خطے میں مکمل امن اور استحکام قائم کیا جا سکے
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کو تیس دن کے اندر اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل مکمل کرنا ہوگا تاکہ دیرپا امن معاہدہ ممکن بنایا جا سکے
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن ان کے مطابق ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جو اقدامات کیے ہیں ان کے تناظر میں یہ پیشکش فوری طور پر قابل قبول نہیں لگتی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فوجی کارروائی کے حق میں فوری طور پر نہیں ہیں تاہم کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق ایران امریکہ امن مذاکرات اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے اور عالمی امن کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے تیل کی ترسیل اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے
یہ پیش رفت عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے جہاں سفارت کاری کے ذریعے جنگ کے بجائے امن کی طرف جانے کی کوشش کی جا رہی ہے

