فجیرہ آئل زون پر ڈرون حملہ ایران یو اے ای کشیدگی میں اضافہ
فجیرہ کے آئل زون پر ڈرون حملہ خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کر گیا ہے اس واقعے نے نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پوری دنیا میں تشویش پیدا کر دی ہے فجیرہ آئل زون جو کہ یو اے ای کی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے وہاں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں
یہ ڈرون حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا بتایا جا رہا ہے جبکہ یو اے ای کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تین میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے جبکہ ایک میزائل سمندر میں جا گرا اس صورتحال نے خلیجی خطے میں ایران یو اے ای کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس پر بحث شروع ہو گئی ہے
فجیرہ آئل زون پر حملے کے نتیجے میں تین غیر ملکی شہری زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے اور چند گھنٹوں میں صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا
اس واقعے کے بعد دبئی اور ابوظہبی میں شہریوں کو موبائل پیغامات کے ذریعے ممکنہ میزائل حملے سے خبردار کیا گیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ایران یو اے ای کشیدگی کے باعث پہلے ہی خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور ایسے حملے حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں
تیل کی ترسیل پر ممکنہ اثرات
یاد رہے کہ فجیرہ آئل زون پہلے بھی نشانہ بن چکا ہے اس سے قبل بھی ڈرون حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی تھی فجیرہ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے
ایران یو اے ای کشیدگی کے دوران فجیرہ کا کردار اور بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ تیل کی فراہمی کو جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز خطرے میں ہو اس حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ خلیجی خطہ اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران یو اے ای کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اسی لیے عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں
مجموعی طور پر فجیرہ آئل زون حملہ ایک اہم واقعہ ہے جو نہ صرف خطے کی سیکیورٹی بلکہ عالمی توانائی کے نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اگر ایران یو اے ای کشیدگی کو کم نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں مزید ایسے واقعات سامنے آ سکتے ہیں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیں گے

