صومالی قزاقی کے بعد پاکستانی خاندانوں میں خوف اور بے چینی
پاکستانی خاندانوں میں خوف کی فضا اس وقت شدید ہو گئی ہے جب صومالی قزاقی کے ایک واقعے نے کئی گھروں کی خوشیاں چھین لیں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی عائشہ امین کی کہانی دل دہلا دینے والی ہے ان کی تین سالہ بیٹی زمل روزانہ اپنے والد کے بارے میں پوچھتی ہے اور یہ سوال کرتی ہے کہ کیا وہ اب واپس آئیں گے
عائشہ کے شوہر امین بن شمس ایک آئل ٹینکر پر کام کر رہے تھے جب صومالی قزاقوں نے جہاز کو اغوا کر لیا یہ واقعہ اکیس اپریل کو پیش آیا جس کے بعد سے وہ اور دیگر پاکستانی ملاح یرغمال بنے ہوئے ہیں اس جہاز میں کل سترہ افراد سوار تھے جن میں دس پاکستانی شامل ہیں یہ خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں موجود ان کے خاندان شدید پریشانی اور خوف کا شکار ہیں
صومالی قزاقی ایک بار پھر عالمی سطح پر خطرہ بنتی جا رہی ہے اور خاص طور پر پاکستانی ملاح اس کا نشانہ بن رہے ہیں عائشہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کا خواب تھا کہ وہ مرچنٹ نیوی میں کام کریں اور بہتر زندگی گزاریں وہ کراچی کے شپ یارڈ میں کئی سال کام کرنے کے بعد اس نوکری تک پہنچے تھے اور بہت خوش تھے
سمندری خطرات اور عالمی توجہ کی ضرورت
جب سے جہاز اغوا ہوا ہے تب سے عائشہ کے گھر میں ہر دن بے چینی کے ساتھ گزرتا ہے ان کا چار ماہ کا بیٹا اپنے والد کو کبھی دیکھ بھی نہیں سکا جبکہ بیٹی روز سوال کرتی ہے یہ صورتحال نہ صرف ایک خاندان بلکہ کئی پاکستانی خاندانوں کے لیے ایک بڑا المیہ بن چکی ہے
پاکستانی ملاحوں کی حفاظت ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ صومالی قزاقی جیسے خطرات سے نمٹا جا سکے اور یرغمال افراد کو بحفاظت واپس لایا جا سکے
اس واقعے نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ سمندری راستوں پر کام کرنے والے افراد کس قدر خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور ان کے خاندان کس کرب سے گزرتے ہیں صومالی قزاقی اور جہاز اغوا جیسے مسائل عالمی توجہ کے متقاضی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے
آخر میں عائشہ کی یہی دعا ہے کہ ان کے شوہر جلد واپس آ جائیں اور ان کی بیٹی کو اس کے سوال کا جواب مل جائے پاکستانی ملاح اور ان کے خاندان اس وقت شدید خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں ہیں اور پوری قوم ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا گو ہے

