کراچی کی مائی کولاچی سڑک سے چار سڑ چکے لاشیں برآمد
کراچی کی مائی کولاچی سڑک کے قریب ایک گہری کھائی سے پولیس اور ریسکیو اداروں نے جمعہ کی رات چار سڑ چکے لاشیں برآمد کیں کراچی کے ساؤتھ ڈپٹی انسپکٹر جنرل سید اسد رضا نے بتایا کہ یہ لاشیں کھائی میں جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھیں اور راستے کے جنگلی حصے میں واقع تھیں جو ڈاکس پولیس اسٹیشن کے حدود میں آتا ہے
پولیس کو یہ اطلاع ایک کوڑے کچرہ اکھٹا کرنے والے شخص نے دی جس کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاشیں نکالی گئیں ابتدائی تحقیقات کے مطابق لاشیں دس سے پندرہ دن پرانی تھیں اور ان کی حالت انتہائی خراب تھی جن میں دو مرد اور دو خواتین شامل تھیں ایڈھی فاؤنڈیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایک لاش لڑکے کی بھی معلوم ہوئی ہے اسد رضا نے مزید کہا کہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور پولیس ہر پہلو سے اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے
یہ واقعہ اس ہفتے کے آغاز میں یونیورسٹی آف کراچی کے ایک ملازم کی گنّی بیگ میں بند لاش ملنے کے واقعے کے بعد سامنے آیا تھا یہ لاش سیفورا ٹاؤن کے ایک سنسان علاقے میں پائی گئی تھی
پولیس کے مطابق یہ شخص مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تھا ایک پولیس افسر نے بتایا کہ متاثرہ یونیورسٹی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا ملازم تھا اور وہ اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھا لیکن حال ہی میں سچل گوٹھ منتقل ہو گیا تھا
کراچی میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غیر قانونی قتل کے واقعات
کراچی میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غیر قانونی قتل کے واقعات شہریوں کے لیے تشویش کا سبب بن رہے ہیں مختلف علاقوں میں لاشیں ملنے سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہری اپنی حفاظت کے لیے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں پولیس نے وعدہ کیا ہے
کہ وہ تمام ممکنہ ذرائع سے اس کیس کی تحقیقات کرے گی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اسد رضا نے کہا کہ شہری اگر کسی مشکوک واقعے یا غیر معمولی سرگرمی کا مشاہدہ کریں تو فوراً پولیس کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے
مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی اور انصاف کی توقع
ایڈھی فاؤنڈیشن اور دیگر ریسکیو ادارے اس سلسلے میں شہریوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور لاشیں ملنے پر فوری طور پر اسپتال منتقل کر دی جاتی ہیں تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے محلے اور علاقوں میں حفاظت کے انتظامات کو بہتر بنائیں اور غیر محفوظ مقامات سے گریز کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور شہر بھر میں گشت بڑھایا گیا ہے تاکہ شہری محفوظ رہیں اور مجرم قانون کے مطابق سزا پا سکیں اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ نے بھی عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ شہر میں امن قائم رہے اور شہری بلا خوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی گزار سکیں یہ واقعہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات بھی اٹھا رہا ہے اور عوام میں تشویش بڑھا رہا ہے پولیس اور ریسکیو ادارے اپنے فرائض کو بہترین انداز میں انجام دے رہے ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے
کراچی کے شہری اس واقعے پر غم و افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ مجرم جلد گرفتار ہوں گے اور انصاف کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا شہریوں کو چاہیے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور پولیس کے تعاون سے شہر میں سلامتی کی فضا قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں

