اولیور پیک کا شاندار آخری گیند کا چھکا، رینیگیڈز کی جیت یقینی
ملبورن رینیگیڈز کے نوجوان کرکٹر اولیور پیک نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے آخری گیند پر چھکا لگا کر ٹیم کو جیت دلا دی۔ پرتشدد اور دلچسپ میچ میں رینیگیڈز نے پرتھ اسکورچرز کو چار وکٹوں سے شکست دی۔ نوجوان کھلاڑی نے دباؤ کے باوجود پراعتماد کھیل پیش کیا اور پرستاروں کی تالیوں اور مخالف ٹیم کے شور کے درمیان اپنی ٹیم کے لیے فتح حاصل کی
میچ کے دوران اسکورچرز نے محدود اوورز میں 127 رنز بنائے جس کے بعد رینیگیڈز کی ٹیم نے اس ہدف کے تعاقب میں ابتدائی طور پر مشکل کا سامنا کیا میچ کے دوران رینیگیڈز کی بیٹنگ عموماً مستحکم نہ رہی اور کئی وکٹیں جلدی گر گئیں لیکن پیک نے آخری لمحات میں اپنی ٹیم کو سنبھالا اور اہم رنز بنا کر فتح یقینی کی
میچ کے دوران رینیگیڈز کی ٹیم 17ویں اوور میں مشکلات کا شکار ہوئی جب پیک کو مشکل کیچ کے بعد آؤٹ دیا گیا مگر ویڈیو ریویو نے ثابت کیا کہ کیچ مکمل نہیں ہوا اور پیک نے خوش قسمتی سے وکٹ پر واپس آ کر اپنی ٹیم کے لیے کام کیا۔ پیک نے اس موقع پر کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے خوابوں کے پورا ہونے کے مترادف ہے اور وہ خوش ہیں کہ ان کی محنت رنگ لائی
میچ میں جوش براؤن نے ابتدائی اوورز میں اچھی شروعات دی اور رینیگیڈز نے ابتدائی چھ اوورز میں 51 رنز بنا لیے۔ لیکن اس کے بعد ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی اور اگلے آٹھ اوورز میں صرف 23 رنز بنائے جا سکے۔ رینیگیڈز کے کھلاڑیوں نے باؤنڈری بنانے میں دشواری کا سامنا کیا مگر پیک نے ثابت قدمی دکھائی اور کپتان ول سدرلینڈ کے ساتھ شراکت داری قائم کر کے ٹیم کو فتح کے قریب پہنچایا
رینیگیڈز کی ٹیم نے میچ کے دوران مشکلات کے باوجود جیت کا خواب پورا کیا
گُرندر سندھو نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں اور اپنے سیزن کے 14 وکٹوں کے ساتھ گولڈن آرم لیڈر بورڈ میں سب سے اوپر آ گئے۔ اسکورچرز کی ٹیم نے ابتدائی وکٹیں جلد گنوا دیں اور میچ کے آخری لمحات میں وہ مکمل طور پر بے بس نظر آئے۔ آرن ہارڈی واحد بیٹسمین تھے جنہوں نے اسکورچرز کے لیے کچھ رنز بنائے اور 44 رنز کی اننگز کھیلی مگر ٹیم کی دیگر بیٹنگ ناکام رہی
میچ کے آخری لمحات میں پیک نے دباؤ کے باوجود اپنے انداز اور حکمت عملی کے ساتھ آخری گیند پر چھکا لگایا جس نے رینیگیڈز کے پرستاروں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ نوجوان کھلاڑی کا یہ کارنامہ نہ صرف ٹیم کے لیے اہم تھا بلکہ ان کے کیریئر کے لیے بھی یادگار ثابت ہوا۔ پیک اگلے دن براہِ راست افریقہ روانہ ہوئے جہاں وہ آسٹریلیا کی انڈر نائنٹین ٹیم کی قیادت کریں گے
یہ میچ کرکٹ کے شائقین کے لیے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز رہا۔ نوجوان کھلاڑیوں کی محنت، بولرز کی شاندار کارکردگی اور میچ کے آخری لمحات نے سب کو محظوظ کیا اولیور پیک کی شاندار اننگز اور آخری گیند کا چھکا کرکٹ کے شائقین کے ذہنوں میں لمبے عرصے تک یاد رہے گا اور اس نے ثابت کر دیا کہ نوجوان کھلاڑی بڑے لمحات میں بھی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

