Thu. Feb 5th, 2026

گرین لینڈ کے عوام کا حق خود ارادیت کے لیے عالمی احتجاج

نمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد نے گرین لینڈ کے حق میں مظاہرہ کیا مظاہرین کا پیغام ہے کہ گرین لینڈ صرف گرین لینڈ کے عوام کا ہے اور کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا گرین لینڈ کے عوام نے امریکہ کے قبضے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا مظاہرین نے یکجہتی اور امن کے ساتھ اپنے حق خود ارادیت کا مضبوط پیغام دیا کوپن ہیگن اور گرین لینڈ میں ‘Hands Off Greenland’ مظاہرے ہوئے ہزاروں افراد نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا ڈنمارک میں مظاہروں کے دوران عوام نے گرین لینڈ کی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کی مظاہرین نے کہا کہ یہ دنیا کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے
نمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہزاروں افراد نے گرین لینڈ کے حق میں مظاہرہ کیا مظاہرین کا پیغام ہے کہ گرین لینڈ صرف گرین لینڈ کے عوام کا ہے اور کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا گرین لینڈ کے عوام نے امریکہ کے قبضے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا مظاہرین نے یکجہتی اور امن کے ساتھ اپنے حق خود ارادیت کا مضبوط پیغام دیا کوپن ہیگن اور گرین لینڈ میں ‘Hands Off Greenland’ مظاہرے ہوئے ہزاروں افراد نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا ڈنمارک میں مظاہروں کے دوران عوام نے گرین لینڈ کی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کی مظاہرین نے کہا کہ یہ دنیا کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے

ڈنمارک میں ہزاروں افراد کا گرین لینڈ کے حق میں احتجاج

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے گرین لینڈ کے حق میں اور امریکی دباؤ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کیا یہ مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق بیانات اور دھمکیوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ ایک خودمختار خطہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کا حق ہے

احتجاج میں شریک افراد نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور شہر کے مرکزی علاقے میں یکجہتی کا اظہار کیا مظاہرین کے نعروں میں گرین لینڈ کے مقامی نام کی گونج سنائی دیتی رہی جس سے یہ پیغام دیا گیا کہ یہ خطہ اپنے لوگوں کا ہے اور کسی بیرونی طاقت کو اس پر قبضے کا حق نہیں

گرین لینڈ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے اس احتجاج کا اہتمام کیا جن کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا تھا کہ گرین لینڈ کی جمہوریت انسانی حقوق اور خود ارادیت کا احترام کیا جائے منتظمین کے مطابق حالیہ بیانات نے گرین لینڈ کے عوام کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کیا ہے اور اس کا جواب اتحاد اور امن کے پیغام سے دینا ضروری ہے

اسی دن گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں بھی ایک بڑا مظاہرہ ہوا جہاں لوگوں نے امریکی قونصل خانے کی جانب مارچ کیا مظاہرین نے کہا کہ یہ احتجاج کسی دشمنی کے لیے نہیں بلکہ اپنے وجود اور حق کے دفاع کے لیے ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں اور سفارتی کوششوں کے ساتھ کھڑے ہیں

امریکی کانگریس کا وفد اور آرکٹک خطے میں تعاون کی اہمیت

احتجاجی مظاہروں کے دوران مقررین نے کہا کہ گرین لینڈ کے عوام دنیا سے صرف احترام چاہتے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے اور طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جائے ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک خطے کا نہیں بلکہ عالمی اصولوں کا امتحان ہے

حالیہ عوامی رائے کے جائزے کے مطابق گرین لینڈ کی بھاری اکثریت امریکہ میں شمولیت کے حق میں نہیں عوام کا واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی شناخت ثقافت اور سیاسی اختیار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں

کوپن ہیگن میں موجود امریکی کانگریس کے وفد نے بھی اس موقع پر کہا کہ گرین لینڈ کو کسی فوری سکیورٹی خطرے کا سامنا نہیں تاہم بدلتے موسمی حالات کے باعث آرکٹک خطے میں تعاون کی ضرورت ضرور ہے ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری اور شراکت داری باہمی احترام کے ساتھ ہونی چاہیے

یورپی ممالک نے بھی گرین لینڈ میں مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں ڈنمارک نے واضح کیا کہ یہ اقدامات شفاف اور اتحادی تعاون کے تحت کیے جا رہے ہیں

مجموعی طور پر یہ احتجاج ایک پرامن مگر مضبوط آواز تھا جس میں عوام نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ گرین لینڈ کے فیصلے گرین لینڈ کے عوام ہی کریں گے اور وہ کسی دباؤ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں

متعلقہ پوسٹس