سکون کے علاقے سے باہر نکلنے کی ضرورت
کبھی کبھی انسان اپنے سکون کے علاقے سے باہر نکلنے سے ڈرتا ہے ہم اکثر نہیں جان پاتے کہ ہم کتنے باصلاحیت ہیں جب تک کہ ہم خود میں تبدیلی نہ لائیں یا نئے راستے پر قدم نہ رکھیں زیادہ تر لوگ اپنے خوف کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتے کہ اگر میں ناکام ہو گیا تو کیا ہوگا اس خوف کی وجہ سے ہم وہ بھی کھو سکتے ہیں جو ہمارے پاس ہے اسی لیے بہت سے باصلاحیت افراد کی ترقی ایک مقام پر رک جاتی ہے
زندگی کے ساتھ کرکٹ کی دنیا میں بھی یہی فرق نظر آتا ہے ماضی اور حال کے کھلاڑیوں کا معیار ایک دوسرے سے بہت مختلف رہا پرانے زمانے میں صرف ٹیسٹ کرکٹ ہوتی تھی اور اسے کھیل کا سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا پھر ایک روزہ میچ آئے اور پیسہ کھیل میں شامل ہوا جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کی توجہ اس طرف بڑھ گئی اب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا زمانہ ہے نئی نسل ٹی ٹوئنٹی کے دھماکہ خیز کھلاڑیوں کو اتنا ہی عزت دیتی ہے جتنا پہلے لوگ برادمان کو دیتے تھے فرق صرف یہ ہے کہ اصل برادمان دہائیوں بعد بھی یاد رہتا ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی جلد بھول جاتے ہیں
کرکٹ کی دنیا میں ماضی اور حال کا فرق
آج کھلاڑی چند گھنٹوں میں زیادہ پیسہ کمانے کو ترجیح دیتے ہیں بجائے لمبے ٹیسٹ میچ کھیلنے کے اس وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ اتنی کم کھیل جاتی ہے کہ پاکستان جیسی بڑی ٹیم سال میں صرف چار پانچ میچ کھیلتی ہے بہت کم کھلاڑی تینوں فارمیٹ میں اچھا کھیل پاتے ہیں اور ان میں سے بھی اکثر اپنی شہرت کو استعمال کر کے خود کو لازمی بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو ٹیم کے نقصان کا باعث بنتی ہے پہلے کھلاڑی کہتے تھے ہم ملک کے لیے کھیلتے ہیں آج کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ کر لیگوں میں زیادہ کمائی کو ترجیح دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی کیریئر مختصر ہے لیکن اگر ایسا ہے تو انہیں شروع سے ہی لیگوں کے لیے کھیلنا چاہیے
لیگز کھلاڑیوں کے غرور کو بھی پرکھتی ہیں گھر میں ہیرو ہونے کی وجہ سے کسی کھلاڑی کو ٹیم میں برقرار رکھا جا سکتا ہے لیکن فرنچائز میں ہر میچ میں بہترین کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے اگر آپ نے توقعات پر پورا نہیں اترا تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار وہ رویہ دکھاتے ہیں جس کی توقع کوئی نہیں کرتا
ٹی ٹوئنٹی میں شہرت اور عارضی کامیابی
یہی کچھ بیگ باش لیگ میں دیکھا گیا جب بابر اعظم نے آخری اوور میں ایک شاٹ کھیل کر سنگل دیا مگر اسکا ساتھی کھلاڑی اسے لینے سے انکار کر گیا اور اگلے اوور میں ۳۲ رنز بنائے بابر ۴۷ رنز پر آؤٹ ہوئے اور ناراض ہو کر بیٹ کو بارڈر کے ساتھ مارا اس واقعے نے شائقین کو حیران کر دیا
یہ کرکٹ کی دنیا ہے لیکن زندگی میں بھی یہی اصول ہیں گھر میں ہم والدین سے جیسے بات کر سکتے ہیں کام پر ایسے رویہ اپنانا ممکن نہیں جو وقت کے ساتھ ڈھل نہیں پاتا وہ پیچھے رہ جاتا ہے موجودہ حالات کو دیکھنا ضروری ہے اپنی شہرت اور غرور گھر پر چھوڑ کر کام پر توجہ دینا دانشمندی ہے
بابر اعظم اور محمد رضوان نے پاکستان کے لیے بہترین خدمات انجام دی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی میں ان کی سست بیٹنگ ان کی کمزوری ظاہر کرتی ہے عالمی معیار کی لیگز میں ان کی خامیاں سامنے آ رہی ہیں اب انہیں موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کریں اور ٹیم کے لیے کارکردگی دکھائیں تب ہی حقیقی اطمینان حاصل ہوگا

