آسٹریلیا کی ٹوئنٹی ۲۰ ورلڈ کپ میں مشکلات اور عمان کے خلاف میچ
آسٹریلیا کے کرکٹ مداح اس وقت ایک غیر متوقع مایوسی سے دوچار ہیں ٹیم نے زیمبروا اور سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد اپنی ٹوئنٹی ۲۰ ورلڈ کپ کی امیدیں کھو دی ہیں یہ صورتحال کسی کے لیے بھی حیران کن تھی کیونکہ گزشتہ کئی سالوں میں آسٹریلیا نے ہمیشہ مضبوط کارکردگی دکھائی ہے لیکن اس سال ان کا سفر کچھ اور ہی رہا
گروپ مرحلے میں ناکامی کے بعد آسٹریلیا کو عمان کے خلاف میچ کھیلنا ہے یہ میچ کسی بڑی اہمیت کا حامل نہیں ہے لیکن ٹیم کے لیے اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی ناکامی کے بعد عزت بچانے کے لیے کھیلیں گے گزشتہ دنوں میں ٹیم میں چوٹیں، غلط انتخاب اور کھلاڑیوں کی خراب فارم نے آسٹریلیا کی پرفارمنس پر گہرا اثر ڈالا ہے اور عوام میں سخت تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے
عمان کے خلاف میچ آسٹریلیا کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے اگرچہ آسٹریلیا نے کبھی بھی کسی معاون ٹیم کے خلاف ہار نہیں مانی لیکن گزشتہ ورلڈ کپ میں عمان نے ایک مضبوط پرفارمنس دکھائی تھی اور ٹیم کو کٹھن مقابلہ پیش کیا تھا
آسٹریلیا کے لیے اہم کھلاڑیوں میں ایڈم زامپا اور گلین میکس ویل ہیں زامپا نے سری لنکا اور زیمبروا کے خلاف کارکردگی میں کمی دیکھی گئی اور ان کی فارم پر سوالات اٹھنے لگے ہیں زامپا نے اپنی قابلیت سے ہمیشہ ٹیم کو فائدہ پہنچایا لیکن موجودہ حالات میں ان کے کھیل پر عوامی توجہ بڑھ گئی ہے میکس ویل بھی ٹیم کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور وہ اس میچ میں اپنی شاندار فارم دکھانے کی کوشش کریں گے
ٹیم میں متوقع تبدیلیوں میں میٹ رین شا کی واپسی اور کوپر کونولی کی جگہ میٹ ک
ٹیم میں کھلاڑیوں کی کارکردگی اور چیلنجز
ونیمین کی شمولیت شامل ہے ٹیم کے کپتان مچل مارش ہوں گے جبکہ دیگر کھلاڑی ٹریوس ہیڈ، جوش انگلس، ٹم ڈیوڈ، مارکس اسٹوئنس، کیمرون گرین، زاویر بارٹلی، نیتھن ایلس اور دیگر شامل ہیں
عمان کی ٹیم بھی مضبوط کوشش کرے گی ان کے کپتان جتندر سنگھ ہیں اور دیگر اہم کھلاڑیوں میں عامر کلیم، حمد مرزا، وسیم علی، محمد ندیم اور شکیل احمد شامل ہیں عمان کی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائیں اور ٹورنامنٹ میں شاندار انداز میں اپنی پرفارمنس ختم کریں
پالیکلے کے میدان میں دونوں ٹیمیں پہلے ہی کھیل چکی ہیں اور وہاں کے حالات بیٹنگ کے لیے موزوں ہیں نمی اور تھوڑی بارش کے امکانات ہیں لیکن میچ کی شروعات تک موسم صاف رہنے کی توقع ہے
اس میچ کے نتائج چاہے کسی بھی ٹیم کے حق میں جائیں آسٹریلیا کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی بدقسمتی کے بعد عزت دوبارہ حاصل کریں اور عوام کو یہ دکھائیں کہ ٹیم میں صلاحیت موجود ہے کھیل کے دوران ٹیم کا جذبہ اور کھلاڑیوں کی محنت سب کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہے

