Fri. Feb 20th, 2026

خیبر پختونخوا میں غیر قانونی کان کنی پر پابندی دریا کناروں پر بڑا سرکاری فیصلہ

خیبر پختونخوا غیر قانونی کان کنی دریائے سندھ کنارے کان کنی پابندی دریائے کابل سونا نکالنے پر پابندی کے پی حکومت دفعہ 144 کان کنی صوابی نوشہرہ کوہاٹ کرک کان کنی خبر پاکستان ماحولیاتی آلودگی کان کنی اثرات غیر قانونی معدنیات نکالنے کے نقصانات کے پی حکومت کریک ڈاؤن کان کنی دریاؤں سے سونا نکالنے پر سرکاری ایکشن پاکستان میں قدرتی وسائل تحفظ کوہاٹ تیل و گیس دریافت خبر پاکستان میں نئے توانائی ذخائر مقامی تیل و گیس پیداوار پاکستان غیر قانونی کھدائی قانون اور سزا پاکستان ماحولیاتی تحفظ حکومتی اقدامات
خیبر پختونخوا غیر قانونی کان کنی دریائے سندھ کنارے کان کنی پابندی دریائے کابل سونا نکالنے پر پابندی کے پی حکومت دفعہ 144 کان کنی صوابی نوشہرہ کوہاٹ کرک کان کنی خبر پاکستان ماحولیاتی آلودگی کان کنی اثرات غیر قانونی معدنیات نکالنے کے نقصانات کے پی حکومت کریک ڈاؤن کان کنی دریاؤں سے سونا نکالنے پر سرکاری ایکشن پاکستان میں قدرتی وسائل تحفظ کوہاٹ تیل و گیس دریافت خبر پاکستان میں نئے توانائی ذخائر مقامی تیل و گیس پیداوار پاکستان غیر قانونی کھدائی قانون اور سزا پاکستان ماحولیاتی تحفظ حکومتی اقدامات

خیبر پختونخوا میں دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی پر ساٹھ دن کی پابندی

خیبر پختونخوا حکومت نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ساٹھ دن کے لئے دریاؤں کے کناروں پر ہر قسم کی غیر مجاز کھدائی پر پابندی عائد کر دی ہے یہ پابندی خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں نافذ کی گئی ہے اور اس کا اطلاق دریائے سندھ اور دریائے کابل کے اطراف پر ہوگا

حکام کے مطابق سوابی نوشہرہ کوہاٹ اور کرک سمیت قریبی علاقوں میں عرصہ دراز سے ریت بجری اور سونے کے ذرات نکالنے کا کام جاری تھا جس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا پانی آلودہ ہو رہا تھا اور دریا کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی آ رہی تھی مقامی آبادی نے بھی شکایات کیں کہ کھدائی سے زمین بیٹھ رہی ہے اور رہائشی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں متعلقہ محکموں کی رپورٹس پیش کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں بعض منظم گروہ بھی ملوث ہیں جو بھاری مشینری استعمال کرتے ہیں اور مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس وجہ سے امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ تھا اسی بنا پر دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت پابندی نافذ کر دی گئی

حکومت نے کان کنی کے محکمے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مشترکہ کارروائی کا حکم دیا ہے اب کسی بھی مقام پر مشینری گاڑی یا سامان ضبط کیا جا سکے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی حکام نے خبردار کیا کہ سزا میں جرمانے اور گرفتاری دونوں شامل ہوں گے

دریائے سندھ اور دریائے کابل کے اطراف سخت کارروائی کا آغاز

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دریا صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ زرعی زمینوں جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لئے بھی نہایت اہم ہیں اگر بے قابو کھدائی جاری رہتی تو سیلابی خطرات بڑھ سکتے تھے اور زیر زمین پانی بھی متاثر ہوتا اس لئے حالیہ فیصلہ دیر سے سہی مگر ضروری اقدام ہے

دوسری جانب توانائی کے شعبے میں مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے کوہاٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہونے کی تفصیل پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کی ہے بارگزئی کنویں کی کھدائی گزشتہ سال شروع ہوئی تھی اور اب روزانہ تیل اور گیس حاصل ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے جس سے ملک میں ایندھن کی دستیابی بہتر ہونے کی امید ہے

اسی طرح آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے سندھ کے علاقے ٹنڈو الہ یار میں بھی گیس اور کنڈینسیٹ ملنے کی اطلاع دی ہے کمپنی کے ماہرین نے مقامی ذخائر کو کامیابی سے جانچا اور پیداوار کے امکانات ظاہر کئے ہیں

ماہرین معاشیات کے مطابق اگر مقامی ذخائر سے پیداوار بڑھی تو درآمدی ایندھن پر خرچ کم ہوگا اور زرمبادلہ کی بچت ہوگی جبکہ صوبوں کو رائلٹی اور روزگار کے مواقع بھی ملیں گے

یوں ایک طرف حکومت ماحول کے تحفظ کے لئے غیر قانونی کان کنی روک رہی ہے اور دوسری طرف توانائی کے نئے ذخائر کی دریافت معیشت کے لئے امید کی کرن بن رہی ہے عوام کو توقع ہے کہ قانون پر مستقل عملدرآمد اور شفاف نگرانی سے قدرتی وسائل محفوظ رہیں گے اور ترقی کا سفر تیز ہوگا

متعلقہ پوسٹس