گلگت بلتستان میں شدید بارش اور برفباری سے پہاڑی تودے گر گئے قراقرم شاہراہ کئی مقامات پر بند
شمالی پاکستان کے خوبصورت لیکن پہاڑی خطے گلگت بلتستان میں شدید بارش اور تازہ برفباری نے معمولات زندگی کو متاثر کر دیا ہے بدھ کے روز مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر پہاڑی تودے گرنے کے واقعات پیش آئے اور اہم شاہراہ قراقرم شاہراہ بند ہو گئی
یہ شاہراہ پاکستان کو چین سے ملانے والی ایک اہم بین الاقوامی سڑک ہے جس پر روزانہ ہزاروں مسافر اور تجارتی گاڑیاں سفر کرتی ہیں تاہم حالیہ پہاڑی تودے گرنے کے باعث دیامر اور کوہستان کے مختلف علاقوں میں سڑک بند ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
اطلاعات کے مطابق منگل کی رات سے لے کر بدھ تک مسلسل بارش اور برفباری کے باعث پہاڑی علاقوں میں مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے کے کئی واقعات پیش آئے
شمالی پاکستان میں خراب موسم بارش اور برفباری سے قراقرم شاہراہ بند
ان واقعات کی وجہ سے دیامر اور کوہستان کے درمیان قراقرم شاہراہ کے مختلف حصے مکمل طور پر بند ہو گئے جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر راستوں میں پھنس گئے ان مسافروں میں مریض بزرگ افراد اور بچے بھی شامل تھے جو سفر کے دوران شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اپر کوہستان کے بارسین سے لے کر لوئر کوہستان کے پٹن تک کئی مقامات پر پہاڑی تودے گرنے کے باعث سڑک بند ہو گئی انتظامیہ نے بتایا کہ جیسے ہی موسم بہتر ہوگا سڑک سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا جائے گا تاکہ آمد و رفت دوبارہ بحال کی جا سکے
حکام کے مطابق سڑک کی صفائی اور بحالی کا کام تعمیراتی ادارہ انجام دے گا جو اس اہم شاہراہ کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے تاہم خراب موسم کی وجہ سے امدادی اور صفائی کا کام فوری طور پر شروع کرنا ممکن نہیں ہو سکا
دوسری جانب موسمی ماہرین نے بھی شمالی علاقوں میں شدید موسم کی پیش گوئی کی تھی پاکستان کے موسمیاتی ادارے نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے برفانی تودے گرنے اور پہاڑی تودے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
بارش اور برفباری سے قراقرم شاہراہ بند مسافروں کو شدید مشکلات
مقامی پولیس کے مطابق گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں بارش ہوئی جبکہ بلند پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی دور دراز دیہات کا دوسرے علاقوں سے رابطہ بھی عارضی طور پر منقطع ہو گیا ہے
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اگر کسی کو ناگزیر سفر کرنا پڑے تو وہ اپنی گاڑیوں میں برفانی زنجیریں ضرور رکھیں تاکہ پھسلن والی سڑکوں پر حادثات سے بچا جا سکے اس کے علاوہ برفانی گلیشیئرز کے قریب رہنے والے افراد اور کمزور مکانات میں رہنے والوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں بھی شدید موسم کے باعث افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہو گئے اطلاعات کے مطابق ایک میاں بیوی اور ان کا بیٹا جاں بحق ہو گئے جبکہ گھر میں موجود دیگر بچے محفوظ رہے
امدادی ادارے کے مطابق یہ واقعہ شدید بارش کے دوران پیش آیا امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی مکمل کی جبکہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں بدلتے موسمی حالات کے باعث اس طرح کے واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے

