Thu. Mar 19th, 2026

پاکستان کا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عزم چیف آف فیلڈ مارشل عاصم منیر ڈیفنس فورسز

پاکستان دہشت گردی ختم کرنا • افغان طالبان آپریشن غضب للحق • پاک فوج حکمت عملی دہشت گردی • عاصم منیر دہشت گردی بیان • پاکستان امن اور سلامتی • افغان زمین دہشت گردی ممنوع • علما کا کردار امن پاکستان • پاکستان فوج افغان سرحد رد عمل • عالمی امن اور پاکستان کوششیں • دہشت گردی کی روک تھام پاکستان • پاکستان اور افغان طالبان کشیدگی • علاقائی امن مذاکرات اسلامی ممالک • ملکی اتحاد اور مذہبی رہنماؤں کی حمایت • دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائیاں • سرحدی سیکیورٹی پاکستان افغانستان • پاکستانی فوجی کارروائی افغان طالبان • دہشت گرد حملوں کا موثر جواب • پاکستان قانون نافذ اداروں کی حمایت • پاکستان امن مذاکرات اسلامی روایات
پاکستان دہشت گردی ختم کرنا • افغان طالبان آپریشن غضب للحق • پاک فوج حکمت عملی دہشت گردی • عاصم منیر دہشت گردی بیان • پاکستان امن اور سلامتی • افغان زمین دہشت گردی ممنوع • علما کا کردار امن پاکستان • پاکستان فوج افغان سرحد رد عمل • عالمی امن اور پاکستان کوششیں • دہشت گردی کی روک تھام پاکستان • پاکستان اور افغان طالبان کشیدگی • علاقائی امن مذاکرات اسلامی ممالک • ملکی اتحاد اور مذہبی رہنماؤں کی حمایت • دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائیاں • سرحدی سیکیورٹی پاکستان افغانستان • پاکستانی فوجی کارروائی افغان طالبان • دہشت گرد حملوں کا موثر جواب • پاکستان قانون نافذ اداروں کی حمایت • پاکستان امن مذاکرات اسلامی روایات

چیف آف ڈیفنس فورسز کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور جہاں کہیں بھی دہشت گرد موجود ہوں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں علما سے ملاقات کے دوران کہی

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر درست اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں انہوں نے موجودہ عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے

اس موقع پر انہوں نے علما کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ مذہبی رہنما معاشرے میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی جذبات کو کسی بھی صورت میں تشدد کو ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

اسلامی ممالک کی درخواست پر آپریشن میں عارضی وقفہ

اجلاس میں شریک علما نے بھی ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور اس بات کی شدید مذمت کی کہ مذہب کے نام پر تشدد کو فروغ دیا جائے انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا

دوسری جانب حکومت پاکستان نے عید الفطر کے موقع پر آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفہ دینے کا اعلان کیا ہے یہ فیصلہ اسلامی ممالک کی درخواست اور مذہبی روایات کے احترام میں کیا گیا ہے اس وقفے کا اطلاق مخصوص دنوں کے لیے ہوگا

وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان نے یہ قدم نیک نیتی کے تحت اٹھایا ہے تاہم اگر اس دوران کسی قسم کا سرحد پار حملہ یا دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو آپریشن دوبارہ پوری شدت کے ساتھ شروع کر دیا جائے گا

رپورٹس کے مطابق اس آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ان کے ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے اس کے علاوہ بھاری اسلحہ اور گاڑیاں بھی ناکارہ بنائی گئیں

یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی اور امن کے لیے ہر سطح پر سرگرم ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے

متعلقہ پوسٹس