اسرائیلی حملوں میں لبنان میں مزید بائیس افراد جاں بحق
لبنان میں ایک بار پھر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں تازہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم بائیس افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں یہ حملے خاص طور پر جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے جس سے خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہوگئی ہے اسرائیلی حملے لبنان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں
لبنانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملوں میں نوے سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے اس کے علاوہ طبی عملے کے افراد بھی ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں لبنان جنگ کی صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جا رہی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے
تازہ حملے میں جنوبی علاقے تفاحتا میں ایک فضائی کارروائی کے دوران آٹھ افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوئے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اسی طرح نباطیہ کے علاقے تول میں بھی حملہ کیا گیا جہاں تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمیوں میں ایک طبی کارکن بھی شامل ہے اسرائیل لبنان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے
کفر سیر نامی علاقے میں ہونے والے ایک اور حملے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زفتا نباطیہ شاہراہ کے قریب ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار افراد اپنی جان گنوا بیٹھے قصیبہ میں بھی ایک شخص ہلاک ہوا لبنان پر اسرائیلی حملے عام شہریوں کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں
لبنانی قیادت کا اسرائیل سے مذاکرات مسترد
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اسرائیلی ٹھکانوں پر متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے جس میں سرحدی علاقوں اور شمالی اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا حزب اللہ اسرائیل جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں دونوں جانب سے حملے جاری ہیں
اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی پر بات نہیں کریں گے خاص طور پر حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کیا گیا ہے اسرائیل امن مذاکرات کے حوالے سے اپنی شرائط پر قائم ہے جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا شامل ہے
لبنانی رہنما حسن فضل اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ملکی آئین اور قومی مفادات کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے یہ اقدام اندرونی اختلافات کو بڑھا سکتا ہے لبنان سیاسی بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے
وزیراعظم نواف سلام نے اپنی امریکہ روانگی مؤخر کر دی ہے تاکہ ملکی صورتحال پر مکمل توجہ دی جا سکے ان کا کہنا تھا کہ عوام کی حفاظت اور اتحاد اولین ترجیح ہے لبنان کی موجودہ صورتحال نہایت نازک ہو چکی ہے
ادھر اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ غزہ شام اور لبنان میں سیکیورٹی زون قائم کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی کارروائیاں جاری رکھیں گے اسرائیل مشرق وسطیٰ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے
یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں امن کی امیدیں کمزور ہو رہی ہیں جبکہ اسرائیل لبنان جنگ کے اثرات پورے خطے کو متاثر کر رہے ہیں

