اقوام متحدہ کی فوری تحقیقات کا مطالبہ: ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلیٰ کمشنر نے ایران کے جنوب میں واقع ایک لڑکیوں کے اسکول پر گولہ باری کے واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا زور دیا ہے، جس میں کم از کم ایک سو پچاس افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر طالبات شامل تھیں۔
یہ تباہ کن واقعہ شجرہ طیبہ پرائمری اسکول، جو صوبہ میناب میں واقع ہے، تب پیش آیا جب جنگ کے پہلے دن فوجی کاروائیوں کے دوران اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں کم از کم ایک سو پچاس افراد، خاص طور پر نو عمر لڑکیاں شہید ہوئی ہیں، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ فولکر ترک نے اسے بے حد المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنگ کے قانون کے احترام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، وقت اور حملے کی وجوہات کی تفصیلی تحقیقات ضروری ہیں تاکہ ذمہ داران کو جوابدہ بنایا جا سکے۔
ترک نے مزید کہا کہ اسکول جیسے غیر جنگی ادارے کو نشانہ بنانا سول آبادی کے خلاف ورزی ہے اور اس قسم کے اقدامات کی کوئی جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات جلد از جلد شروع ہونی چاہئیں اور عوام کے سامنے اس کے نتائج پیش کیے جائیں تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکہ کی تحقیقات جاری ذمہ داری کے بارے میں واضح اعلانات نہیں
اس واقعے کے پس منظر میں، امریکی اور اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ حالات کی جانچ کر رہے ہیں، مگر ابھی تک کسی نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ امریکی فورسز کا کردار تھا یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملہ اسی وقت ہوا جب جنوبی ایران میں امریکی اور اسرائیلی فوجی نشانے پر کارروائیاں کر رہے تھے، جس سے شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ حملہ اسی مشترکہ فوجی مہم کا حصہ تھا۔ تاہم، باضابطہ طور پر کوئی فریق ذمہ داری قبول نہیں کر رہا۔
اس المناک واقعے نے عالمی سطح پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر جب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ مسلسل بچوں اور عام شہریوں کو جنگی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا ہے کہ بچوں اور اسکولوں کو جنگ کے دوران ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے کیونکہ وہ کسی بھی تنازعے کا حصہ نہیں ہوتے۔
ایران کے نمائندے نے اقوام متحدہ میں اس حملے کو جرم اور غیر انسانی عمل قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی بتایا ہے، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے عوام کے لیے ایک انسانی المیہ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے امن و سلامتی کے تصور کو پھر سے دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

