امریکہ کی شام میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی
امریکی افواج نے شام میں شدت پسند تنظیم کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کی ہیں امریکی فوج کے مطابق یہ حملے اس دہشت گرد تنظیم کی جانب سے گزشتہ ماہ امریکی اہلکاروں پر کیے جانے والے حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں امریکی مرکزی کمانڈ کے مطابق متعدد فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں انہیں سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھا گیا تھا
یہ کارروائیاں آپریشن ہوکائی اسٹریک کے تحت کی گئی ہیں جس کا مقصد پالمیرا میں امریکی اور شامی افواج پر ہونے والے مہلک حملے کا جواب دینا تھا دسمبر کی تیرہ تاریخ کو پالمیرا میں ایک مسلح حملہ آور نے دو امریکی فوجیوں اور ایک امریکی مترجم کو ہلاک کر دیا تھا امریکی دفاعی حکام نے حملہ آور کو شدت پسند قرار دیا تھا لیکن بعد میں شامی وزارت داخلہ نے بتایا کہ حملہ آور شامی سکیورٹی فورسز کا رکن تھا جسے انتہاپسندی کے باعث نوکری سے فارغ کیا جانا تھا
امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہم اپنے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور اس طرح کی کارروائیوں میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے امریکہ اور اردن نے پچھلے مہینے بھی پالمیرا حملے کے جواب میں فضائی کارروائیاں کی تھیں جس میں ستر سے زیادہ شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا شامی انسانی حقوق کے مبصرین نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں کم از کم پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے جن میں ایک سیل کا رہنما بھی شامل تھا
شام میں شدت پسندوں کی موجودگی اور خطرات
جنوری کی تین تاریخ کو برطانیہ اور فرانس نے بھی مشترکہ کارروائیاں کیں اور بتایا کہ یہ فضائی حملے ایک زیر زمین مرکز کو ہدف بنا کر کیے گئے جہاں شدت پسند ہتھیار ذخیرہ کرتے تھے امریکی اہلکار جو پالمیرا میں ہلاک ہوئے تھے وہ اس بین الاقوامی کوشش میں شامل تھے جس کا مقصد شدت پسند تنظیم کو ختم کرنا تھا اس تنظیم نے 2014 میں شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا
شدت پسند بالآخر مقامی زمینی افواج اور بین الاقوامی فضائی حملوں کے نتیجے میں شکست کھا گئے لیکن شام کے وسیع صحرا میں ان کی موجودگی ابھی بھی برقرار ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل عرصے سے امریکی افواج کی شام میں موجودگی پر شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں انہوں نے اپنی پہلی مدت میں فوجی انخلا کے احکامات دیے لیکن آخرکار امریکی افواج شام میں موجود رہیں
پینٹاگون نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ شام میں اپنی افواج کی تعداد نصف کرے گا اور امریکی نمائندہ برائے شام نے جون میں کہا تھا کہ واشنگٹن آخرکار وہاں اپنے اڈوں کو صرف ایک تک محدود کرے گا یہ اقدامات شام میں امریکی اور بین الاقوامی سکیورٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں امریکی اور مقامی افواج کا مقصد یہ ہے کہ وہ علاقے میں امن قائم رکھیں اور دہشت گرد عناصر کو دوبارہ ابھرنے سے روکیں

