امریکی صدر ٹرمپ کا بیجنگ کا تاریخی دورہ
پاکستان اور دنیا بھر میں عالمی اور سیاسی خبریں ہمیشہ عوام کی دلچسپی کا مرکز رہی ہیں اور اب بین الاقوامی توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے متوقع سفر پر مرکوز ہے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے مئی میں بیجنگ کا سفر کریں گے یہ ملاقات ایران میں جاری جنگ کی وجہ سے پہلے ملتوی کی گئی تھی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس تاریخی ملاقات کے لیے بے حد پرجوش ہیں اور امید ہے کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کرے گی
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات چودہ اور پندرہ مئی کو بیجنگ میں ہوگی اور وہ اس سال بعد میں شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کو واشنگٹن میں بھی مدعو کریں گے صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکی اور چینی حکام بیجنگ اور واشنگٹن دوروں کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور وہ چینی صدر کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے بہت خوش ہیں کیونکہ یہ ملاقات تاریخی اہمیت کی حامل ہے
ایران میں جنگ کے اثرات اور ملاقات کی تاخیر
وائٹ ہاؤس نے بھی نئی تاریخوں کا اعلان صدر ٹرمپ کی پوسٹ سے کچھ دیر قبل کیا تھا ٹرمپ کا یہ پہلا بیجنگ دورہ ان کے دوسرے دور صدارت میں طے پایا ہے اور اس کا مقصد دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا ہے گزشتہ اکتوبر میں چینی اور امریکی صدور نے جنوبی کوریا میں ایک علاقائی اجلاس کے دوران ملاقات کی تھی اور تجارتی جنگ میں عارضی صلح پر اتفاق کیا تھا
صدر ٹرمپ نے سولہ مارچ کو کہا تھا کہ انہوں نے چین سے ملاقات ملتوی کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ مشرق وسطی میں جاری جنگ پر توجہ مرکوز کر سکیں صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ جنگ کے دوران یہاں موجود رہیں اور اسی لیے ملاقات ایک ماہ یا اس سے زیادہ کے لیے ملتوی کی گئی ہے
وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئی تاریخ کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں یا نہیں پریس سیکرٹری نے کہا کہ امریکی حکام ہمیشہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں چار سے چھ ہفتے تک جاری رہ سکتی ہیں صدر شی نے سمجھا کہ صدر ٹرمپ کے لیے موجودہ جنگی کارروائیوں کے دوران موجود رہنا ضروری ہے اور انہوں نے ملتوی کرنے کی درخواست قبول کر لی ہے
تجارت توانائی اور عالمی تعلقات میں ممکنہ نتائج
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس ملاقات کے دوران مضبوط موقف اختیار کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ مزید تجارتی رعایتیں حاصل کرے صدر ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملے میں شمولیت نے مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھا دی ہے توانائی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور ایران کی ہرمز کی تنگی کی وجہ سے عالمی رسد پر خدشات پیدا ہوئے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صدر ٹرمپ مشرق وسطی میں اپنی پالیسیوں میں واضح کامیابی نہ دکھا سکیں تو وہ چین کے دورے کے دوران سفارتی دباو میں آئیں گے ٹرمپ کی کمزور پوزیشن چین کو مزید رعایتیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے اور امریکہ کے لیے دیگر تجارتی مسائل پر دباؤ محدود ہو سکتا ہے اس تاریخی ملاقات سے عالمی سیاست میں نئے توازن کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں اور امریکی صدر کے لیے یہ موقع نہ صرف تجارتی بلکہ عالمی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے بھی اہم ہے

