Fri. Mar 13th, 2026

ایران امریکا جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر عالمی منڈی میں ہلچل

ایران امریکا جنگ کے اثرات: تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے عالمی تیل مارکیٹ متاثر خلیج فارس میں جہازوں پر حملے اور عالمی تجارت کے خطرات امریکا ایران جنگ: عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ میں دباؤ تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ گئیں، آبنائے ہرمز میں کشیدگی جاری ایران امریکا تنازع اور خلیج فارس میں جہاز رانی کے خطرات عالمی تیل سپلائی پر اثرات: ایران امریکا جنگ کے بعد مارکیٹ ہلچل خلیج فارس میں ڈرون و میزائل حملے اور عالمی تجارت کو خطرہ ایران امریکا جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ تیل کی بڑھتی قیمتیں اور Strait of Hormuz میں کشیدگی کا اثر
ایران امریکا جنگ کے اثرات: تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے عالمی تیل مارکیٹ متاثر خلیج فارس میں جہازوں پر حملے اور عالمی تجارت کے خطرات امریکا ایران جنگ: عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ میں دباؤ تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ گئیں، آبنائے ہرمز میں کشیدگی جاری ایران امریکا تنازع اور خلیج فارس میں جہاز رانی کے خطرات عالمی تیل سپلائی پر اثرات: ایران امریکا جنگ کے بعد مارکیٹ ہلچل خلیج فارس میں ڈرون و میزائل حملے اور عالمی تجارت کو خطرہ ایران امریکا جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ تیل کی بڑھتی قیمتیں اور Strait of Hormuz میں کشیدگی کا اثر

ایران جنگ کے باعث عالمی تیل منڈی بحران کا شکار

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور ایران اور امریکا اسرائیل کشیدگی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے تیل کی قیمتیں دوبارہ ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی جا رہی ہے ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں جاری کشیدگی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی خطے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے

امریکی صدر نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تیل کی قیمتوں سے زیادہ اہم ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو امریکا کو بھی اس سے مالی فائدہ ہوتا ہے

دوسری جانب عالمی بحری تنظیم  نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں خلیج فارس میں جہاز رانی کو درپیش خطرات خصوصاً  کی صورتحال پر غور کیا جائے گا اس تنگ سمندری راستے سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہے

امریکی فوج کے ہزاروں اہداف پر حملوں کا دعویٰ

امریکی فوج نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس وقت اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کر سکے کیونکہ زیادہ تر فوجی طاقت ایران کے خلاف حملوں میں مصروف ہے اس صورتحال نے عالمی شپنگ کمپنیوں اور تیل کی صنعت میں تشویش پیدا کر دی ہے

ادھر ایران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق جو جہاز ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ رکھیں گے انہیں گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ایران کا کہنا ہے کہ اس راستے کی سلامتی سب کے مفاد میں ہے

ایرانی پاسداران انقلاب  نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج فارس میں ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ امریکی ملکیت تھا اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اسی دوران متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر جہاز پر میزائل نما چیز گرنے سے آگ لگ گئی تاہم عملہ محفوظ رہا

عراقی حکام کے مطابق عراق کے ساحل کے قریب دو مزید آئل ٹینکروں پر بھی حملے ہوئے جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ کئی لاپتہ ہو گئے بندرگاہی حکام کے مطابق 38 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ چند ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں

جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی منڈی کو خطرات

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 28 فروری سے اب تک ایران کے اندر تقریباً چھ ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ 90 سے زیادہ ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا یا تباہ کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ بارودی سرنگیں بچھانے والے درجنوں جہاز بھی نشانہ بنائے گئے

اس جنگ کے مالی اخراجات بھی بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں امریکی میڈیا کے مطابق صرف پہلے چھ دنوں میں امریکی محکمہ دفاع کو گیارہ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنا پڑا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگ طول پکڑنے کی صورت میں یہ اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں

ایران کے سکیورٹی رہنما  نے خبردار کیا ہے کہ ایران اس جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گا اور امریکا کو اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج فارس میں کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی معیشت بلکہ توانائی کی عالمی منڈی پر بھی بہت گہرے ہوں گے کیونکہ دنیا کے کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اسی خطے پر انحصار کرتے ہیں

متعلقہ پوسٹس