امریکہ ایران کا اعتماد حاصل کرے گا یا نہیں مذاکرات کے بعد نیا سوال
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اعتماد کا مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں
اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات جو تقریباً اکیس گھنٹوں تک جاری رہے کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے جس کے بعد ایران نے اپنا مؤقف مزید مضبوط انداز میں پیش کیا ایران امریکہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے کئی اہم نکات پر گفتگو کی لیکن چند بنیادی مسائل پر شدید اختلافات برقرار رہے جس کی وجہ سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی
قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے ہمیشہ نیک نیتی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ماضی کے تجربات کی وجہ سے امریکہ پر مکمل اعتماد ممکن نہیں انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی وفد نے مستقبل کے حوالے سے مثبت تجاویز بھی پیش کیں لیکن امریکی وفد ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ایران کا مؤقف یہی رہا کہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنی قومی سلامتی اور دفاعی طاقت کو بھی برقرار رکھا جائے گا
اسلام آباد مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے میں کامیاب رہا پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دونوں جانب سے سراہا گیا جو کہ پاکستان امن کوششوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اس موقع پر پاکستانی قیادت نے بھی زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ خطے میں استحکام پیدا ہو سکے
ایران امریکہ تعلقات میں کشیدگی کی وجوہات
امریکی نائب صدر نے بھی تسلیم کیا کہ مذاکرات میں تفصیلی بات چیت ہوئی لیکن کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکی شرائط کو قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے معاہدہ ممکن نہ ہو سکا دوسری جانب ایران نے یہ مؤقف اپنایا کہ چند اہم نکات پر دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بہت زیادہ تھے
ایران امریکہ تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور حالیہ مذاکرات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی معیشت اور امن پر اثر انداز ہو سکتی ہے
آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی کو جاری رکھا جائے اور مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے عالمی برادری کی یہی کوشش ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی میں کمی آئے اور خطہ ایک نئے بحران سے محفوظ رہے
مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی ناکامی نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں تاہم امید ابھی باقی ہے کہ سفارتی کوششیں جاری رہیں گی اور کسی نہ کسی مرحلے پر مثبت پیش رفت سامنے آئے گی

