ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں اکثریتی اتفاق
ایران کے مذہبی ادارے، اسمبلی آف ایکسپرٹس، نے ملک کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں زیادہ تر رائے متفقہ طور پر طے کر لی ہے۔ یہ فیصلہ مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ملک کی قیادت سنبھالنے والے شخص کے لیے کیا جا رہا ہے۔ آیت اللہ محمد مہدی میر باقری نے اتوار کو کہا کہ اگرچہ اکثریتی اتفاق حاصل ہو گیا ہے، مگر کچھ مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں جو عمل کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
گزشتہ روز اسمبلی کے ایک سینئر عالم دین نے اعلان کیا تھا کہ ارکان ایک روز کے اندر نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کریں گے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ارکان کے درمیان یہ اختلاف رہا کہ حتمی فیصلہ لازمی طور پر اجلاس میں پیشگی ملاقات کے بعد ہونا چاہیے یا بغیر اس رسمی طریقہ کار کے بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
آیت اللہ محسن حیدری الکاسر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں اجلاس کر کے حتمی ووٹ دینا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک امیدوار کا انتخاب کر لیا گیا ہے، جس کا معیار مرحوم سپریم لیڈر کی نصیحت پر مبنی ہے کہ ایران کا اعلیٰ رہنما “دشمن کے لیے ناپسندیدہ” ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی تعریف کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی اس شخص کے نام کا ذکر کر چکا ہے، جو ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب ہونے والا ہے
خطے میں جاری کشیدگی اور ایرانی جوابی کارروائیاں
امریکی صدر نے خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کو نامنظور قرار دیا اور کہا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکہ کو بھی کردار ادا کرنے کا حق ہونا چاہیے، تاہم ایران نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایران کے دو بااثر اور سخت گیر علماء نے ملک میں جاری کشیدگی کے درمیان فوری نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا مطالبہ کیا، تاکہ ملک کی قیادت ایک ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھ سکے
یہ مطالبات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مذہبی قیادت کے کچھ حلقے عارضی طور پر تین رکنی کونسل کے ذمہ داری سنبھالنے پر مطمئن نہیں ہیں۔ اس دوران خطے میں امریکی اور اسرائیلی حملے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں اور عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی ہے
سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرون حملے رپورٹ ہوئے، جن سے کچھ نقصان تو ہوا مگر انسانی جانوں کا کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ ایران کے ریولوشنری گارڈز نے بحرین میں امریکی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ اس صورتحال کے تناظر میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کے داخلی استحکام اور خطے میں طاقت کے توازن کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے

