ایران کے وزیر خارجہ کا امریکہ کو سخت انتباہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے حالیہ بیانات میں امریکہ کو واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ تہران کے پاس اب بھی کئی ایسے اقدامات ہیں جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ ایران مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی حالیہ کارروائی، جسے آپریشن ‘ایپک فیوری’ کہا جا رہا ہے، نے خطے میں اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ عراقچی کے مطابق اس آپریشن کے نو دن کے عرصے میں تیل کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے تیل اور جوہری مراکز کے خلاف منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ عالمی مہنگائی کے اثرات کو محدود کیا جا سکے، لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے
عراقچی نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ تہران کے پاس ایسے متعدد اقدامات ہیں جو خطے میں موجود کشیدگی کو غیر متوقع انداز میں بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی سطح پر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا
ایران کی اقتصادی پوزیشن اور تیل کے شعبے کی حفاظت
سید عباس عراقچی نے عوام اور بین الاقوامی برادری کو بھی یہ پیغام دیا کہ ایران اپنے تیل اور توانائی کے شعبے کو کسی بھی قسم کے دباؤ یا پابندی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے بقول، امریکہ کی حکمت عملی کا مقصد ایران کی اقتصادی ترقی کو متاثر کرنا ہے، لیکن ایران نے اس سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ عراقچی کے بیان کا مقصد نہ صرف امریکہ کو خبردار کرنا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی یہ پیغام دینا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی مکمل طور پر مستحکم اور محفوظ ہے۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی وقت حالات کے مطابق ردعمل دینےکے لیے تیار ہے اور اس کے پاس ایسے کئی ‘حیران کن اقدامات’ ہیں جو عالمی سطح پر اثر ڈال سکتے ہیں
اس صورتحال کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔ عراقچی کے بیانات نے عالمی سیاست میں ایران کی مضبوط پوزیشن اور اس کے دفاعی اور اقتصادی مؤثر اقدامات کو اجاگر کیا ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر تبدیل ہونے کے امکانات ہیں

