لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے امن معاہدے پر سنگین دھچکا
لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں جس نے خطے کی صورتحال کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان حملوں نے پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے عارضی امن معاہدے کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے لبنانی شہریوں کے لیے یہ دن انتہائی خوفناک اور تشویشناک ثابت ہوئے ہیں
حالیہ حملوں میں لبنان کے جنوبی شہر صیدا اور اس کے مضافات شامل ہیں جہاں اسرائیلی طیاروں نے بڑے پیمانے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں عمارتیں منہدم ہوئی اور شہریوں کو شدید نقصان پہنچا اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی توثیق کی تھی تاہم اسرائیل نے زور دے کر کہا کہ لبنان میں جاری لڑائی اس معاہدے میں شامل نہیں ہے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے
لبنان میں فضائی حملوں کی تصویریں دل دہلا دینے والی ہیں خاکستر میں دبے ہوئے شہریوں کی مدد کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں لبنانی شہری خوف اور دہشت میں مبتلا ہیں اور وہ ہر لمحے اپنے عزیزوں کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں فضائی حملوں کے باعث شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں اور کئی علاقوں میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہے
عالمی برادری اور امدادی اقدامات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے خطرہ ہیں پاکستان کے ثالثی کردار کے باوجود خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ ایران تعلقات پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے امن معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنے وعدوں پر قائم رہیں اور فوری جنگ بندی کریں تاکہ مزید انسانی جانوں کا نقصان نہ ہو
لبنانی حکومت نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور علاقے میں انسانی بحران کو روکا جا سکے امدادی ادارے زخمیوں کی طبی امداد کے لیے کوشاں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں خوراک اور پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں
عالمی میڈیا نے بھی لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کی تصویریں جاری کی ہیں جن میں ریسکیو ٹیمیں ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال رہی ہیں اور آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں فضائی حملوں نے لبنان کے شہریوں کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے اور ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں جاری حملوں سے خطے میں مزید عسکری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور پاکستان کے ذریعے طے شدہ امن معاہدے پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے ضروری ہے کہ عالمی برادری جلد از جلد موثر اقدامات کرے تاکہ لبنان میں انسانی جانوں کا مزید نقصان نہ ہو اور خطے میں پائیدار امن قائم رہے

