امریکہ ایران امن منصوبہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد خطے میں نئی امید
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک امن منصوبہ بھیجا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو غیر دشمن جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان سامنے آیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی کے باوجود ایک نئی سفارتی امید پیدا ہوئی ہے
گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ کے بعد یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالات انتہائی نازک ہیں ایک طرف ایران اور اسرائیل کے درمیان حملے جاری ہیں تو دوسری طرف عالمی طاقتیں کسی ممکنہ حل کی تلاش میں مصروف ہیں ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ ان بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے گا جو اس کے خلاف نہیں ہیں یہ فیصلہ عالمی منڈی کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد کوئی مثبت نتیجہ نکل سکتا ہے انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے جسے انہوں نے ایک قیمتی تحفہ قرار دیا تاہم انہوں نے اس کی مکمل وضاحت نہیں کی
ایران کی طرف سے عالمی بحری تنظیم کے ذریعے پیغام جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ غیر دشمن ممالک کے جہاز محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں اس اعلان کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی کیونکہ جنگ کے باعث قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی تھیں اور دنیا بھر میں معاشی دباؤ بڑھ رہا تھا
پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے ایران کو ایک پندرہ نکاتی منصوبہ بھیجا ہے جس میں جنگ بندی اور جوہری پروگرام پر پابندیاں شامل ہیں اس منصوبے کے مطابق ایران کو یورینیم افزودگی روکنی ہوگی اور بدلے میں اس پر عائد پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں اس کے علاوہ ایران کو پرامن جوہری توانائی کے منصوبوں میں مدد بھی دی جا سکتی ہے
پاکستان نے بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جسے عالمی سطح پر مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے
تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل بھی ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کر رہا ہے لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں اسرائیل نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں
ماہرین کے مطابق اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن مکمل امن کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ یہ تنازعہ مزید بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں
موجودہ حالات میں دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی ایسا حل سامنے آئے گا جو اس خطرناک تنازعے کو ختم کر کے خطے میں استحکام لے آئے

