وزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس
اسلام آباد میں بدھ کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حصہ لیا اجلاس کا مقصد ایران اور خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا تھا اجلاس کے دوران فارن آفس کے اہلکاروں نے پارلیمانی رہنماؤں اور سیاسی قیادت کو خطے کی تازہ پیش رفت بشمول ایران کی صورتحال سے آگاہ کیا
اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی جمعیت علماء اسلام ف متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما شریک ہوئے جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اسی طرح پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما بھی اجلاس کا بائیکاٹ کیا اجلاس میں خصوصی توجہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر دی گئی جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے اور ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے
اسرائیل اور امریکہ کے عسکری اڈوں کو نشانہ بنایا اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان اور افغانستان کی صورتحال ایران میں پیش رفت مشرق وسطی اور خلیج میں جاری تنازعات اور پاکستان کی علاقائی سلامتی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اس اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ عالمی اور خطائی مشکلات کے دوران قومی یکجہتی اور اتحاد بہت ضروری ہے شرکا نے اتفاق کیا
کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اختلافات کو مؤخر کرنا ہوگا اور تمام پارلیمانی جماعتیں مل کر ملکی مفاد میں فیصلے کریں اجلاس میں یہ بھی غور کیا گیا کہ ایران میں حالیہ کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے
ایران اور خطے میں بڑھتی کشیدگی
اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے شرکا نے زور دیا کہ پاکستان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرنا چاہیے
جلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی علاقائی سلامتی تجارتی مفادات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کی ضرورت ہے پارلیمانی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی میڈیا اور عوام کے ساتھ مربوط رابطے کے ذریعے صورتحال کی وضاحت کی جائے تاکہ افواہوں اور غلط معلومات سے بچا جا سکے اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے شرکا کو اعتماد دلایا کہ حکومت ملکی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی اور سیاسی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی
اجلاس نے ملک میں موجودہ چیلنجز کے دوران سیاسی اتحاد اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا پیغام دیا تاکہ پاکستان اندرونی اور بیرونی خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکے اور عوام کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کیا جا سکے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں تعاون کریں گے اور موجودہ کشیدگی میں پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسی کے لیے متحدہ موقف اختیار کریں گے اس طرح ملک کے تمام اہم سیاسی اور عسکری حلقے مل کر خطے میں امن و استحکام کے قیام اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گ

