خیبر پختونخوا میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معمول کے دفتری کام روک دیں یہ ہڑتال وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر کی جا رہی ہے جس پر صوبائی حکومت نے مالی اور آئینی معاملات میں امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے
وزیر اعلیٰ کے جاری بیان کے مطابق وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ بجلی اور گیس کی تقسیم میں ناانصافی کر رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ صوبے کو اس لیے نظر انداز کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے سخت احتجاج کا فیصلہ کیا ہے
انہوں نے واضح کیا کہ ہڑتال کے دوران تمام سرکاری دفاتر میں کام بند رہے گا جبکہ ہسپتال اور دیگر ہنگامی خدمات کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کے ساتھ ساتھ وکلا برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں تاکہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے آواز بلند کی جا سکے
خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان یہ کشیدگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ کافی عرصے سے جاری ہے خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ اور مالی وسائل کی تقسیم پر دونوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب قبائلی اضلاع کا انضمام ہوا جس کے بعد صوبے کی مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا
این ایف سی اجلاس سے واک آؤٹ کا واقعہ
سال دو ہزار چھبیس میں یہ مسئلہ دوبارہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر شکایات کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے فنڈز کی ادائیگی میں تاخیر کر رہی ہے جس کی وجہ سے صوبے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے
بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں مالی امور بقایاجات اور سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی تاہم اس کے باوجود اختلافات ختم نہ ہو سکے اور معاملات جوں کے توں رہے
مارچ میں ہونے والے ایک اجلاس میں خیبر پختونخوا حکومت نے این ایف سی ذیلی کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا کیونکہ دیگر صوبے قبائلی اضلاع کی آبادی کو وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں شامل کرنے کے خلاف تھے اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی تو صوبے کا حصہ چودہ اعشاریہ باسٹھ فیصد سے بڑھ کر اٹھارہ اعشاریہ چھیانوے فیصد ہو سکتا تھا
یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم ایک بڑا تنازع بن چکا ہے اور اسی مسئلے کے خلاف اب قلم چھوڑ ہڑتال جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں
اہم الفاظ خیبر پختونخوا ہڑتال این ایف سی ایوارڈ وفاقی حکومت مالی بحران تحریک انصاف احتجاج سرکاری ملازمین بجلی گیس تقسیم آئینی مسائل

