Sat. Jan 31st, 2026

عمران خان کی صحت اور سیاسی ماحول پر پی ٹی آئی کا بیان

پی ٹی آئی رہنما ایک بار پھر عمران خان سے ملاقات کرنے سے محروم رہے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دل بڑا دکھانا چاہیے تھا ایڈیالہ جیل میں ملاقات نہ ہونے پر پارٹی نے احتجاج کیا اور سیاسی ماحول پر اثرات پر بات کی گئی
پی ٹی آئی رہنما ایک بار پھر عمران خان سے ملاقات کرنے سے محروم رہے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دل بڑا دکھانا چاہیے تھا ایڈیالہ جیل میں ملاقات نہ ہونے پر پارٹی نے احتجاج کیا اور سیاسی ماحول پر اثرات پر بات کی گئی

پی ٹی آئی رہنما پھر عمران خان سے ملاقات سے محروم

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایک بار پھر اپنے پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے محروم رہے انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو دل بڑا دکھانا چاہیے تھا اور ملاقات کی اجازت دینی چاہیے تھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا کہ عمران خان سے ملاقات ہفتے میں دو روز منگل اور جمعرات کو ممکن ہوگی تاہم پارٹی کے مطابق یہ حکم پورا نہیں کیا جا رہا ہے

پارٹی کے رہنما اکثر اوقات عدالت کے اس حکم کے باوجود عدالتی ضوابط کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ پارٹی نے عدالت کے حکم کی پیروی کے لیے جیل کے باہر احتجاجی دھرنے بھی دیے جن میں سے ایک حال ہی میں پانی کی توپوں کے ذریعے منتشر کیا گیا

قومی اسمبلی کے رکن محمد جمال خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال کے پہلے دن اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے پیش نظر امید تھی کہ حکومت پارٹی کے بانی سے ملاقات کی اجازت دے گی یہ قدم قومی ہم آہنگی قائم کرنے اور سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کی جانب پہلا مثبت اقدام ہو سکتا تھا مگر حکومت نے اس موقع کو ضائع کر دیا

پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ایڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھا اور ملاقات کے لیے چھ افراد کے نام بھی بھیجے جن میں ڈاکٹر امجد علی، صاحبزادہ صبغت اللہ، عثمان بھٹانی، اقبال خٹک، شعیب امیر اعوان اور محمد جمال خان شامل تھے

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی

محمد جمال خان نے بتایا کہ وہ مقررہ وقت پر جیل کے گیٹ پر پہنچے اور جیل کے عملے کو بتایا کہ ان کا نام ملاقات کے لیے بھیجا گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ جیل کے اہلکاروں نے کہا کہ ان کا نام نوٹ کر لیا گیا ہے اور اطلاع ملنے پر ملاقات کی اجازت دی جائے گی مگر وہ شام تک انتظار کرنے کے باوجود ملاقات کے لیے اندر نہیں جا سکے

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے میں کمزوری دکھائی اور اگر ملاقات کی اجازت دی جاتی تو یہ حکومت کی سنجیدگی اور مذاکرات کے لیے مثبت پیغام سمجھا جاتا اس سے نہ صرف سیاسی ماحول بہتر ہوتا بلکہ عوام میں بھی ایک اچھا تاثر جاتا

عمران خان اگست دو ہزار تئیس سے ایڈیالہ جیل میں ہیں وہ ایک بڑے کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور ان کے خلاف مئی نو کے احتجاج کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات زیر سماعت ہیں

پارٹی کے رہنما اکثر عمران خان اور ان کی بیوی کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں ان کے بیٹے قاسم خان نے ایک انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا کہ حکام ان کی حالت کے بارے میں کچھ چھپا رہے ہیں تاہم عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم نے ملاقات کے بعد بتایا کہ ان کی صحت بالکل درست ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت ناراض تھے اور ان پر ذہنی اذیت ڈالی جا رہی ہے

عمران خان کی صحت اور خاندان کی تشویش

عظمیٰ خانم نے مزید کہا کہ عمران خان دن بھر اپنے سیل میں قید رہتے ہیں اور تھوڑے وقت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے انہوں نے ملاقات کا دورانیہ تقریباً تیس منٹ بتایا اور کہا کہ ان کا کوئی رابطہ باہر کے افراد سے نہیں ہوتا

اس ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمران خان کو ایسی حالت میں رکھا گیا ہے جو انسانی وقار کے خلاف ہے انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اقدامات کریں پی ٹی آئی نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمران خان کے ساتھ ایڈیالہ جیل میں روا رکھی جانے والی ناقابل قبول سلوک کی کھلی نشاندہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے

پارٹی کے رہنما اور عمران خان کی بہنیں ایک بار پھر جیل کے باہر دھرنا دے رہے تھے جسے رات کے وقت پانی کی توپوں کے ذریعے منتشر کر دیا گیا اس واقعے نے سیاسی تناو میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور عوام میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ حکومت کیا حقیقی معنوں میں سیاسی مکالمے اور قومی ہم آہنگی کے لیے تیار ہے

متعلقہ پوسٹس