پی ٹی آئی رہنما پھر عمران خان سے ملاقات سے محروم
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایک بار پھر اپنے پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے محروم رہے انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو دل بڑا دکھانا چاہیے تھا اور ملاقات کی اجازت دینی چاہیے تھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا کہ عمران خان سے ملاقات ہفتے میں دو روز منگل اور جمعرات کو ممکن ہوگی تاہم پارٹی کے مطابق یہ حکم پورا نہیں کیا جا رہا ہے
پارٹی کے رہنما اکثر اوقات عدالت کے اس حکم کے باوجود عدالتی ضوابط کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ پارٹی نے عدالت کے حکم کی پیروی کے لیے جیل کے باہر احتجاجی دھرنے بھی دیے جن میں سے ایک حال ہی میں پانی کی توپوں کے ذریعے منتشر کیا گیا
قومی اسمبلی کے رکن محمد جمال خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال کے پہلے دن اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کے پیش نظر امید تھی کہ حکومت پارٹی کے بانی سے ملاقات کی اجازت دے گی یہ قدم قومی ہم آہنگی قائم کرنے اور سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کی جانب پہلا مثبت اقدام ہو سکتا تھا مگر حکومت نے اس موقع کو ضائع کر دیا
پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ایڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھا اور ملاقات کے لیے چھ افراد کے نام بھی بھیجے جن میں ڈاکٹر امجد علی، صاحبزادہ صبغت اللہ، عثمان بھٹانی، اقبال خٹک، شعیب امیر اعوان اور محمد جمال خان شامل تھے
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی
محمد جمال خان نے بتایا کہ وہ مقررہ وقت پر جیل کے گیٹ پر پہنچے اور جیل کے عملے کو بتایا کہ ان کا نام ملاقات کے لیے بھیجا گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ جیل کے اہلکاروں نے کہا کہ ان کا نام نوٹ کر لیا گیا ہے اور اطلاع ملنے پر ملاقات کی اجازت دی جائے گی مگر وہ شام تک انتظار کرنے کے باوجود ملاقات کے لیے اندر نہیں جا سکے
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے میں کمزوری دکھائی اور اگر ملاقات کی اجازت دی جاتی تو یہ حکومت کی سنجیدگی اور مذاکرات کے لیے مثبت پیغام سمجھا جاتا اس سے نہ صرف سیاسی ماحول بہتر ہوتا بلکہ عوام میں بھی ایک اچھا تاثر جاتا
عمران خان اگست دو ہزار تئیس سے ایڈیالہ جیل میں ہیں وہ ایک بڑے کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور ان کے خلاف مئی نو کے احتجاج کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات زیر سماعت ہیں
پارٹی کے رہنما اکثر عمران خان اور ان کی بیوی کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں ان کے بیٹے قاسم خان نے ایک انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا کہ حکام ان کی حالت کے بارے میں کچھ چھپا رہے ہیں تاہم عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم نے ملاقات کے بعد بتایا کہ ان کی صحت بالکل درست ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت ناراض تھے اور ان پر ذہنی اذیت ڈالی جا رہی ہے
عمران خان کی صحت اور خاندان کی تشویش
عظمیٰ خانم نے مزید کہا کہ عمران خان دن بھر اپنے سیل میں قید رہتے ہیں اور تھوڑے وقت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے انہوں نے ملاقات کا دورانیہ تقریباً تیس منٹ بتایا اور کہا کہ ان کا کوئی رابطہ باہر کے افراد سے نہیں ہوتا
اس ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمران خان کو ایسی حالت میں رکھا گیا ہے جو انسانی وقار کے خلاف ہے انہوں نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اقدامات کریں پی ٹی آئی نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمران خان کے ساتھ ایڈیالہ جیل میں روا رکھی جانے والی ناقابل قبول سلوک کی کھلی نشاندہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے
پارٹی کے رہنما اور عمران خان کی بہنیں ایک بار پھر جیل کے باہر دھرنا دے رہے تھے جسے رات کے وقت پانی کی توپوں کے ذریعے منتشر کر دیا گیا اس واقعے نے سیاسی تناو میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور عوام میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ حکومت کیا حقیقی معنوں میں سیاسی مکالمے اور قومی ہم آہنگی کے لیے تیار ہے

